مفکر ِاعظم علامہ اقبالؒ ایک عظیم رہبرِ قوم وملت

مضامین

از:۔ڈاکٹر محمد نصر اللہ خان(شیموگہ) اسسٹنٹ پروفیسر،کرناٹک اسٹیٹ اوپن یونیورسٹی، میسور ۔9845916982

علامہ ڈاکٹر اقبال9نومبر1877،بمقام سیالکوٹ میںپیدا ہوئے ۔گھرانہ مذہبی تھا لہٰذا ابتدائی تعلیم عربی اور فارسی کے اُستاد مولوی میر حسن صاحب سے حاصل کی ، B.A.اور M.A کی ڈگری آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے لی ۔پروفیسر آر نلڈ سے آپ نے فلسفہ سیکھااور ریٹیل کالج لاہور میں تاریخ ،فلسفہ اورسیاست کے استاد رہے۔پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ اور انگریزی کے اُستاد بنے ۔ 1905میں وہ انگلیڈ گئے۔ کیمرج یونیورسٹی سے بیریسٹری کاامتحان پاس کیا ۔فلسفہ اخلاق میں میونک (Munich) یونیورسٹی جرمنی سے ایرانی الہیات (ایران میں روحانی ترقی ) پرایک مقالہ Thesis لکھ کرپی اہیچ ڈی کی ڈگری لی ۔ پھر چند ماہ لندن یونیورسٹی میںعربی کے پروفیسر رہے۔ 1908ء؁ میں وطن واپس آئے تجربات مشاہدات اور اعلیٰ تعلیم نے آپ کو اکثر اوقات غوروفکر کرنے پر مجبور کردیا۔
1915ء؁ میںایک فلسفیانہ مثنوی اسرارِخودی فارسی میں لکھی ۔یکم جنوری 1923 میں انگریزی حکومت نے ’’سر‘‘ کے خطاب سے نوازا ۔1928ء؁ میں مدراس یونیورسٹی میں6لکچرر فلسفہ پر دئے۔1929ء؁ جنوری میں مسلم لائبری بنگلور میں عوام سے خطاب کیا اور ایک جلسۂ عام سے بھی خطاب کیا ۔ اس کے بعد میسور گئے وہاں حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒکے مزار پر حاضری دی اور بہت دیر تک آپ وہاں موجود رہے حضرت ٹیپو سلطان کی زندگی اور اُن کی قربانی کو یاد کیا اس مرد مجاہد کے حق میں تنہا دعا کرتے رہے ۔آنکھیں نم ہوگئی ۔وطن عزیز کے لئے ٹیپو سلطان کی قربانی عظیم تر تھی جس کی نذیر دنیا میں نہیں ملتی آپ نے وطن کیلئے اپنے بچوں کی قربانی دی اور میدان کار زار میں فرنگیوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید کامرتبہ پایا ۔ عالم اسلام میں ٹیپو کے خیالات اور ان کے نظریات سے کس طرح امت مسلمہ فیضیاب ہو اور ان کے نقش قدم پر چل کر حقیقی کامیابی کیسے حاصل کرے اُس پر غور وفکرکرتے رہے۔اقبال کی نظر میں شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہیدایسے حکمران تھے جوشریعت محمدی پر قائم و دائم رہ کر ایک سچے حب وطن ،رواداری اور انصاف کاپیکر تھے۔ٹیپو کے اقوال وافعال اور کردار سے آپ بے حد متاثر تھے آپ نے ایک مشہور نظم سلطان ٹیپو کی وصیت کے نام سے لکھی ۔جس کے اشعار سے ایمان ،حوصلے اور ہمت میں پختگی کادرس ملتا ہے۔
تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
میسور یونیورسٹی میں ایک اور ٹون ہال میں ایک خطاب کیا۔ اس طرح ہندوستان اور دیگر ممالک میں بھی آپ کے خطابات ہوئے جوبڑی اہمیت کے حامل ہیں۔
1931ء؁ میں دوسری گول میز کانفرنس لندن میں شرکت کی واپسی کے دوران فرانس گئے،مشہور فلسفی پروفیسر پرگیان سے ملاقات کی روم پہنچ کرمولینی سے ملاقات کی وہاں سے اسپانیہ (اسپین) گئے اور وہاں صدیوں مسلمانوں کی حکومت رہی لیکن اب مسلمانوں کی چند نشانیاں یا عمارتیں ہی باقی رہ گئی تھیں۔ جن میں مسجد قرطبہ بھی تھی اُس مسجد کودیکھ کرآپ نے اُسی نام سے مشہور نظم’’ مسجد قرطبہ‘‘ لکھی۔جس میں عالی شان مسجد کی شان وشوکت اُس دور کے مسلمانوں کی ہمت ،جواںمردی اور مومن کے صفات،جذبۂ عشق اور جذبۂ ایمانی کو پیش کیا ۔
1933میں افغانستان کاسفر کیا ،کابل ہوتے ہوئے غزانیںیا غزنہ گئے جہاں حکیم سنائی ،محمود غزنوی وغیرہ ہستیوں کے مزاروں کی زیارت کی۔1934ء؁ سے صحت ناساز رہی اور 21اپرایل 1938ء؁ لاہور میں وفات ہوئی۔ مسجد ِعالمگیر کے مینار کے سائے تلے تدفین ہوئی۔علامہ اقبال کی شعری خدمات بحیثیت حب الوطن ،مفکر اعظم، شاعر ملت ،حکیم الامت ، شاعرمشرق ، اردو اور فارسی کے عظیم شاعر جن کی شاعری کا مقصد مسلمانوں میں دین کے جذبے کوابھارناخودی کوپہچاننا قرآن مجید کی تعلیمات سے جڑ جانا حضور ﷺ کی محبت میں اپنی زندگی نچھاور کردینا ، شریعت محمدی پر عمل پیرا ہونا ۔ عملی زندگی کو اللہ ورسول کے احکامات سے گزارنا آپ کا کلام مرجھائے ہوئے دلوں میں تازگی ایمان کی حرارت اورمقصد حیات کی حقیقت کو بیان کرتاہے۔
اردو میں چار مجموعۂ کلام ۔علامہ اقبال کا لکھا پہلا شعر
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انعفال کے
بانگِ درا1924۔بالِ جبرئیل1935
ضرب ِ کلیم1936۔ارمغانِ حجاز1938
علامہ اقبال نے ابتدائی دورمیںاپنے کلام کی اصلاح حضرت داغؔ دہلوی سے لی مگر بہت جلد اپنے مزاج کے اعتبار سے داغ ؔدہلوی کی راہ چھوڑ کر خود ایک اپنی راہ بنالی جو علامہ اقبالؔ کی پہچان کاباعث بنی ۔آپ نے شاعری کو گل وبلبل کے نغمے ،ہجر وصال کے دکھڑے ،محبوب کی وفا وبے وفائی کے ترانے سنانے کے بجائے معاملات زندگی کے لئے پیغام کاوسیلہ بنایا ۔ پہچان وپرکھ کا نمونہ بنایا اورقوم سے براہ راست جُڑنے کاذریعہ بنایا ۔
فارسی کلام ۔اسرارِخودی،پیام مشرق،رموز بیخودی،زیور عجم،جاوید نامہ، مثنوی پس چہ باید کرد۔
علامہ اقبال کی شاعری کے موضوعات ،مناظر فطرت ،حب الوطنی، ہندوستان اور دنیا کے عظیم ہستیاں ،مقامات ،عمارتیں ، تہذیبیں،انقلابات،انسانی اقدار، مومن کامل،خودی کی پہچان ، عشق خدا،عشق رسول،فلسفۂ حیات وغیرہ ہیں۔
آپ نے پرانے اور بیکار خیالات، رسومات اور مذہب کے نام پر دھوکہ دینے والوں کے خلاف بیباک لکھا۔ علامہ اقبال نے شاعری سے پیغمبرانہ کام کیا اوراپنے فن سے اپنے جذبات و خیالات کا،فکر انگیز باتوں کوبذریعہ شاعری پیش کیا۔
علامہ اقبال اردو اورفارسی دونوں زبانوں کے کامیاب شاعر تھے ۔ ایک نثر نگار ،ایک اچھے فلسفی تھے،ایک اُستاد ،ایک سیاست دان ،ایک لیڈر،ایک مصلح قوم ،ایک مورخ ، ایک کامیاب وکیل،عربی،فارسی،اردواورانگریزی کاایک بہترین عالم، ایک مفکر ،ایک مدبر تھے آپ کوقرآن وحدیث کاعلم تھا ،تہجد کے وقت قرآن پڑھنے کی عادت تھی آپ نے بچوں کے لئے بہترین شاعری لکھی جس میں۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری۔آج بھی مدرسوں ، اسکولوںمیں یہ نظم پڑھائی جاتی ہے۔ وطن سے الفت ومحبت پرکئی نظمیں لکھی ۔جن میں
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
یہ نظم ہندوستان کی محبت ،عظمت اور وقار کو پیش کرتی ہے۔اس کی مقبولیت میں آج بھی کسی طرح کی کمی نہیں آئی۔
علامہ اقبال اپنے وطن ہندوستان سے متعلق بڑے ہی خوبصورت انداز میںیوں لکھتے ہیں۔
میرِ عرب کوآئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
علامہ اقبال 1908ء؁ وطن واپس لوٹ آئے ۔یہ وقت علامہ اقبال کے ذہنی وفکری ارتقاء کا بڑااہم تھا آپ نے مشرقی اور مغربی تہذیبوںکاموازانہ کیا تو یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ بے ساختہ علامہ اقبال یہ کہنے پر مجبورہوگئے۔
تمہاری تہذیب اپنے خجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی ۔ جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گاناپائیدار ہوگا۔
مدرسہ عقل کو آزاد توکرتاہے مگر
چھوڑکرجاتا ہے خیالات کو بے ربط ونظام
اور اہل کلیسا کا نظام تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین ومروت کے خلاف
یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
بیکاری وعریانی ومئے خواری
کیاکم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات
اس طرح علامہ اقبال شاعر مشرق کے طور پر پہچانے جانے لگے ۔ صحیح معنی میں علامہ اقبال کی پہچان سفر یورپ کے بعد ہی ہوئی اگر یوں کہاجائے تو بیجا نہ ہوگا کہ اقبال کواقبال یورپ نے بنایاہے۔جیسا جیسا وقت گذرتاگیا حالات بدلتے گئے اقبال کے ذہینی ارتقاء کی راہیں طویل ہوتی گئی اب اقبال صرف ہندوستان کی حد تک نہیں بلکہ سارے عالم ، عالم انسانیت ،عالم اسلام کی باتیں اپنے کلام میںبڑے ہی موثر انداز میں پیش کرنے لگے ۔
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا۔لکھنے والا شاعر
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔لکھنے پر مجبور ہوگیا۔یہ ذہنی ارتقاء کی یہ ادنیٰ مثال تھی۔
اقبال انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسوں میں اکثر شریک ہوتے وہیں چند مشہور ومعروف نظمیں لکھیں جن میں شکوہ ، جواب شکوہ،ترانۂ ہندی،اور ترانۂ ملی شامل ہیں۔ 1914ء؁ میں پہلی عالمی جنگ چھڑ گئی اس دورکے نظموں میں ’’خضر راہ‘‘ بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ نظم ’’طلوع ِاسلام ‘‘ لکھ کراقبال نے ساری امت مسلمہ کو غور وفکر کرنے پر مجبور کردیایہ نظم اسلامی تاریخ کی بہترین نظموں میں شمار ہوتی ہے۔
1930ء؁ عیسوی الہ آباد میںمسلم لیگ کے اجلاس کے خطبۂ صدارت میں آپ نے پہلی مرتبہ مسلم ریاست کا نظریہ پیش کیا۔
علامہ اقبال کی شاعری دراصل احکام الہٰی ،شریعت محمدی، طریقۂ صحابہ کادرس دیتی ہے۔جس کی ضرورت ہندوستانی مسلمانوں کوان کے دور میں بھی تھی اور آج بھی ہے ۔ اور انشاء اللہ آئندہ بھی رہے گی۔علامہ اقبال مثنوی مولاناروم اور مولانا روم کی زندگی سے بے حد متاثر تھیاور ہمیشہ یہ گلاکرتے رہے دوسرا رومی کیوں پیدا نہیں ہوا۔
اقبال امت مسلمہ کو حضور ﷺ پر محبت وقربانی کاایسا درس دیتے ہیں کہ دو مصرعوں میں زندگی کی حقیقت ہی بیان کردی ۔
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
چودہ سوسال سے حرام وحلال کی تمیز سنتے پڑھتے آئے ہیں ۔ اس پر آشوب دور میں یہود ونصاریٰ کی چالاکیاں ،مکاریاں،حرام کو حلال بناکر پیش کرنے کا طریقہ ٔ کار اور اس میں امت مسلمہ کس قدر ملوث ہوگئی ہے بس ایسی چیزوں سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کیلئے مرگ مفاجات
علامہ اقبال امت مسلمہ کو زندگی کس طرح گزارنی چاہیے خاص کر نوجوانوںکوبڑے خوبصورت انداز میںلکھتے ہیں ۔لندن میں اپنے بیٹے جاوید کالکھا خط موصول ہونے پر ’’جاوید کے نام‘‘ ایک نظم لکھتے ہیںجاوید علامہ اقبال کے فرزند تھے علامتی طور پراقبال نے فرزندان ِ ملت ِ اسلامیہ کے لئے یہ خاص پیغام دیاہے۔
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
اس کے علاوہ علامہ اقبال کی بہترین نظموں میں ساقی نامہ ذوق وشوق،نوجوان مسلم سے خطاب،روح ارض آدم کا استقبال کرتی ہے۔ جبرئیل وابلیس ،ابلیس کی مجلس ِ شوریٰ ،شکوہ جواب شکوہ ، مسجد قرطبہ،طلوع اسلام وغیرہ ہیں۔علامہ اقبال علماء سے بہت بیزار نظرآتے ہیںبعض جگہ وہ علماء پر سخت چوٹ کرتے ہیںکیونکہ وہ صرف گفتار کے قاضی بن گئے ہیںجبکہ انہیں کردار سے غازی بن کر دکھانا ہے ۔وہ امت کی نمائندگی صحیح معنی میں نہیں کرپارہے ۔علماء درا صل انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ۔قوم کی زبوں حالی ،ناکامی وبربادی اوراصل مقصد سے بھٹک جانے کے باوجود علماء واجب رہنمائی نہ کر پائے ۔
قوم کیا ہے اور قوموںکی امامت کیا ہے
یہ کیا سمجھیں گے صرف دو رکعت کے امام
اور مسلمانوںمیں اتحادو اتفاق کی کمی نے سارے معاملات بگاڑ کے رکھ دئیے پوری امت جب تک ایک نہیںہوسکتی دنیا میں فتح پانا مشکل ہے۔ علامہ اقبال کایہی درس تھا کہ بکھری ہوئی قوم ایک ہو۔
فرقہ بندی ہیں کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہوافغان بھی ہو
تم سبھی کچھ بتائو مسلمان بھی ہو
علامہ اقبال کاپیغام امت مسلمہ کویہ ہے کہ وہ ہمیشہ حق پر رہے شاہین پرندے کے مصداق زندگی گذارے شاہین پرندہ جس طرح اونچی اُڑان اُڑ تاہے درختوںاور عمارتوںکے بجائے اونچے پہاڑوں پر بسیرا کرتاہے اس طرح مومن کوہمیشہ وسعت نظری ،یقین کامل،مومن کامل بن کردنیاجہاں میں فتح پانا ہے۔ آپ کا کلام ولولہ پیدا کرتا ہے روح کو بیدار کرکے عمل کا غازی بناتاہے ۔
توشاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں
نہیںتیرا نشیمن قصر سلطانی کی گنبد پر
توشاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اور ساتھ ہی مومن کی پہچان اس طرح ہوکہ
خودی کوکر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی
تواگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتاہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتاہے سپاہی
علامہ اقبال کا مجموعی کلام زیادہ تر نوجوانوں کے لئے نظرآتاہے اس لئے کہ دنیامیں عظیم سے عظیم انقلاب نوجوانوں سے ہی آیاہے۔اکثر وبیشترانبیائے کرام کاساتھ نوجوانوں نے ہی دیاہے۔اس لئے اقبال نوجوان نسل کواکثر مخاطب کیاہے اور یوںلکھتے ہیں۔
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گر مادے جوروح کو تڑپادے
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
جوانوں کو سوز جگر بخش دے
میرا عشق میری نظر بخش دے
سبق پھر پڑھ صداقت کاعدالت کاشجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
محروم تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے
دیکھا ہے جوکچھ میںنے اوروں کو بھی دکھلادے
دور حاضر میں مسلمان خاص کر نوجوان نسل مغربی طرز معاشرے کواپنالیا ہے جدید ایجادات نے انہیں اپنا گرویدہ بنالیاہے دین سے دوری حقیقت وسچائی سے دوری اخلاق واقدار سے دوری ہماری بربادی کاباعث بنے ہیںاقبال نوجوانوں کو خصوصی پیغام یا یوںکہئے کہ دعا کی ہے ۔
حیات نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی خدا
کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
خدا یا آرزو میری یہی ہے
میرا نورِ بصیرت عام کردے
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیںیہ مردوں کی شمشیریں
پہلے وقتوں میں لوگ کس قدر شریف دیانت دار ،دیندار تھے اس بات کااندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اپنی بچیوںکی شادی کرکے جہیز میں قرآن مجید کے ساتھ دیگر دینی کتابیں جن میں احادیث کی کتابیں بھی شامل ہیں دی جاتی تھیں تاکہ آنے والی نسلیں دینی علوم سے استفاد ہ کریں ۔ میرا خیال یہی بھی ہے کہ آج کے دورمیں مسلمان اپنی بچیوںکی شادی کرکے جہیز میں کچھ دیں یا نہ دیں مگر قرآن مجید ،احادیث نبوی ۡﷺ اور کلام اقبال دیں تو کم از کم آنے والی نسلیں اقبال کوسمجھ کر جان کر پہچان کر پڑھنے کی کوشش کریں گی۔تاکہ نئی نسل اس سچے عاشق رسول ﷺ سے واقف ہو جس نے ہمارے دلوں کو یقین وایمان کے نور سے منور کردیا ۔ گمراہیوں ،مایوسیوں اور کدروتوں سے نکال کر سوچنے پرمجبور کردیا ۔ قوم کوجھنجوڑ کر رکھ دیا کرۂ ارض کلام اقبال کی روشنی سے جگمگاتی نظر آئے وہ روشنی ہمارے دلوں کو تاریکی سے نکال کر حقیقی کامیابی کی جانب شاہراہ کا کام کرتی رہے اور یہی شاہراہ دراصل صراط المستقیم ہے۔ بقول رشید احمد صدیقی اپنی تصنیف گنجہائے گرانمایہ میں لکھتے ہیں۔
اقبال دوسروں کے نزدیک کیسے ہی کچھ ہو میرے لئے تو وہ بہت کچھ تھے ۔میں تو یہاں تک سمجھتا ہوں کہ بہت سے مقامات پر وہ خود اپنے آپ کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ اگر یہ شاعری ہے تو پیمبری کیا ہے ؟ اور یہ پیغمبری ہے تو شاعری کاکیا درجہ ہے۔؟
سکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ جس نے
آدم کو سکھاتا ہے آدابِ خداوندی