از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا، ہبلی۔9902672038

عصرِ حاضر کی برق رفتار، مشینی اور خود غرضیوں سے اٹی ہوئی زندگی نے انسان کو اس شدت کے ساتھ اپنی ہی ذات کے تنگ دائرے میں محصور کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے گرد و پیش کے حالات سے بے خبر ہوتا جا رہا ہے بلکہ معاشرتی ذمہ داریوں کے احساس سے بھی دن بہ دن دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ انسان کا یہ بدلتا ہوا رویّہ، جو محض ذاتی مفاد اور انفرادی مصروفیات کے گرد گھومتا ہے، ہمارے اجتماعی نظام کے توازن میں ایک گہرا اور تکلیف دہ خلل پیدا کر چکا ہے۔ نتیجتاً محبت، ہمدردی، باہمی تعاون اور اجتماعی شعور جیسی قدریں جو کبھی معاشرے کی مضبوط اساس تھیں، رفتہ رفتہ کمزور پڑتی جا رہی ہیں اور انسانی تعلقات میں وہ حرارت کم ہوتی جا رہی ہے جو کبھی دلوں کو جوڑتی اور سماج کو مضبوط بناتی تھی۔
موجودہ عصری دور میں پڑوسی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج انسان بظاہر ترقی یافتہ اور سہولتوں سے آراستہ ہے، مگر تنہائی، بے اعتمادی، مصروفیات اور سماجی ٹوٹ پھوٹ نے انسان کے باہمی تعلقات کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں پڑوسی ہی وہ قریبی رشتہ ہے جو سب سے پہلے ہماری خوشی و غم میں شریک ہو سکتا ہے۔ جدید طرزِ زندگی میں جب خاندان چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں اور رشتوں میں دوری بڑھ رہی ہے، پڑوسی کی قربت انسان کے لیے ایک نعمت بن سکتی ہے۔ اسلام نے بھی پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک پر بہت زور دیا ہے، مگر آج کے دور میں اس تعلیمات پر عمل کی ضرورت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اپارٹمنٹ کلچر، نوکری کے تقاضے، ایک ہی بلڈنگ یا گلی میں رہتے ہوئے بھی اجنبیت کی فضا، یہ سب انسان کو ایک دوسرے سے دور کر چکے ہیں۔ ایسے میں اگر پڑوسی آپس میں تعاون، اخلاق، خیر خواہی اور باہمی احترام کا رویہ اپنالیں تو معاشرتی خلیج کم ہوسکتی ہے اور امن و سکون کا ماحول جنم لے سکتا ہے ۔ موجودہ حالات میں پڑوسی نہ صرف کسی حادثے، بیماری یا مصیبت میں فوری سہارا بن سکتے ہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی ایک دوسرے کی مدد کا ذریعہ بنتے ہیں۔ گھر کی حفاظت، بچوں کی نگرانی، چھوٹے موٹے کاموں میں تعاون ،یہ سب وہ امور ہیں جو پڑوسی کے ذریعے آسان ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی اور نفسیاتی دباؤ کے مقابلے میں پڑوسی کا ایک ہمدردانہ رویہ انسان کیلئے تقویتِ قلب کا باعث بنتا ہے۔یوں موجودہ دور میں پڑوسی کا تعلق محض پاس رہنے تک محدود نہیں بلکہ ایک فعال، معاون اور انسانی رشتہ ہے جو معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے۔ اگر پڑوسی باہمی محبت، احترام اور خیرخواہی کو شعار بنا لیں تو آج کی منتشر دنیا میں امن، راحت اور انسانی قدروں کے احیا کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
اسلام نے جہاں انسانیت، عدل، اخلاق اور باہمی محبت کی تعلیم دی ہے وہاں سماجی زندگی کے بنیادی ترین رشتوں میں سے ایک ہمسایہ کو غیر معمولی درج اہمیت سے نوازا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات میں حقوقِ ہمسایہ اس قدر مؤکد ملتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہمسایہ محض پڑوسی نہیں بلکہ گھر والوں کے مانند ہے۔ انسانی معاشرے کی تہذیب، اس کا اجتماعی وقار اور اس کی اخلاقی بنیادیں اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہیں جب ہمسایہ کے حقوق کو زندگی کا ایک ناگزیر حصہ سمجھ کر ادا کیا جائے۔ اسلام نے ہمسایہ کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کا لازمہ قرار دیا ہے۔ حضورﷺنے فرمایا‘‘جبرئیل مجھے ہمسایہ کے بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ میں گمان کرنے لگا شاید اس کو میرا وارث بنا دیا جائے گا۔اس حدیث سے واضح ہے کہ دین میں ہمسایہ کا مقام محض ہمدردی یا اخلاقی ذمہ داری کی حد تک نہیں بلکہ بہت اعلیٰ درجے کی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ ﷺنے فرمایاجو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔گویا ہمسائے کو اذیت پہنچانا ایمان کی کمزوری اور اخلاقی پستی کی علامت سمجھا گیا ہے۔
سیرتِ طیبہ میں ہمیں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جو حضور ﷺ کی ہمسایوں کے ساتھ اعلیٰ اخلاق اور حسنِ سلوک کو نمایاں کرتے ہیں ۔ آپ کے پڑوس میں ایک مشرک عورت رہتی تھی جو روزانہ آپ کے راستے میں کانٹے بکھیرتی تھی۔ جب ایک روز وہ عمل نہ دہرایا گیا تو آپ نے اس کی خیریت دریافت کی۔ معلوم ہوا کہ بیمار ہے تو آپ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ خاتون یہ غیر معمولی اخلاقی طرزِ عمل دیکھ کر شرمندہ ہوئی اور آخرکار اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلام میں ہمسایہ کے حقوق کا تعلق محض مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ غیر مسلم ہمسایہ بھی اسی احترام اور حسنِ سلوک کا حق دار ہے۔ اسلامی تاریخ میں خلفائے راشدین کے دور میں بھی ہمسایہ نوازی کی روشن مثالیں ملتی ہیں ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ راتوں کو گشت کے دوران نہ صرف عوام کی حاجت روائی کرتے بلکہ پڑوسیوں کا حال بھی دریافت کرتے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت ہے کہ وہ اپنے ہمسائے کی ضرورت کو اپنی ضرورت سے مقدم رکھتے تھے ۔ اسی طرح اسلامی تہذیب کے شہر بغداد، دمشق اور غرناطہ میں معاشرتی نظام کی بنیاد ہی باہمی احترام، رواداری اور ہمسایوں کے حقوق کا پاس رکھنے پر تھی۔ تاریخ کے ان روشن واقعات کی روشنی میں دیکھا جائے تو اسلام کا تصورِ ہمسایہ عدل، محبت، ہمدردی، ایثار اور انسانی احترام کا حسین مجموعہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی انفرادی زندگی میں دوسروں کے جذبات اور حقوق کا پاس رکھتے ہوئے اجتماعی زندگی کو پُرامن اور خیر خواہی پر مبنی بنا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایامومن وہ ہے جس سے اس کا پڑوسی محفوظ رہے۔یہ محفوظ رہنا نہ صرف جسمانی نقصان سے ہے بلکہ زبان کی تلخی، رویّوں کی سختی اور معاشرتی بے حسی سے بھی ہے۔
موجودہ دور میں انسانی سماج اخلاقی بحران سے دوچار ہے۔ شہروں میں بڑھتی ہوئی تنہائی، مصروفیات اور خود غرضی نے پڑوسیوں کے درمیان فاصلوں کو بڑھا دیا ہے۔ آج ایک ہی عمارت میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے حالات سے بے خبر رہتے ہیں۔ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے سماجی مسائل جیسے گھریلو تناؤ، بے اعتمادی، بے رخی اور معاشرتی عدم استحکام اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم اسلام کی ان روشن تعلیمات کی طرف رجوع کریں جو معاشرے میں محبت، خیرخواہی اور باہمی تعاون کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں اسلام کے پیش کردہ حقوقِ ہمسایہ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ جدید شہری زندگی میں پڑوسی بعض اوقات فوراً مدد کرنے والے واحد افراد ثابت ہوتے ہیں۔ خواہ ہنگامی طبی حالات ہوں، حادثات ہوں، یا روزمرہ مشکلات۔ ایسے میں اگر معاشرۃ ہمسایہ نوازی پر قائم ہو تو نہ صرف افراد کی زندگی آسان ہو جاتی ہے بلکہ پوری سماجی ساخت مضبوط ہو جاتی ہے۔ انفرادی سطح پر تھوڑی سی توجہ، ایک اچھا رویہ، سلام دعا، ایک وقت پر مدد، کسی کی خوشی میں شریک ہونا اور غم بانٹنا معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ دنیا کا کوئی قانون انسانوں کے دل نہیں جوڑ سکتا، لیکن اسلام کی تعلیم کردہ اخلاقی قدریں ایسا کر سکتی ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ آج عالمی سطح پر مذہب، نسل اور قومیت کی تفریق نے معاشروں میں فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی تعلیمات ایک عالمی انسانی پیغام پیش کرتی ہیں کہ ہمسایہ خواہ کسی مذہب، نسل یا زبان سے تعلق رکھتا ہو، اس کے حقوق برابر ہیں۔ مسلمان کی شان یہ نہیں کہ وہ صرف اپنے مذہبی بھائی کے ساتھ حسن سلوک کرے، بلکہ وہ اپنے غیر مسلم ہمسائے کے لیے بھی اُسی محبت اور احترام کا مظاہرہ کرے جس کا حکم حضورﷺ نے دیا۔ یہی رواداری اسلام کی عالمی اخلاقی قوت ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور فرد اور بطور معاشرہ رسولِ اکرم ﷺکی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اپنے گھر، محلے اور معاشرے میں ایسے اخلاقی اصول زندہ کریں جو محبت، امن اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ ہمسایہ کے حقوق کی ادائیگی نہ صرف ہمارے ایمان کی تکمیل ہے بلکہ ہماری تہذیب، ہماری انسانیت اور ہمارے سماجی کردار کی بنیاد بھی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں مضبوط معاشرہ، پر امن زندگی اور انسانیت کی فلاح کی طرف لے جاتا ہے۔
حقوقِ ہمسایہ کا پیغام دراصل انسانیت، اخلاق اور معاشرتی ہم آہنگی کا پیغام ہے۔ اسلام نے بارہا یاد دلایا کہ اچھا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے اس کا پڑوسی محفوظ رہے۔ آج کے بدلتے ہوئے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویّوں کو سنواریں، دلوں میں نرم گوشہ پیدا کریں اور آپس میں خیر خواہی، مدد، احترام اور برداشت کو فروغ دیں۔ اگر ہر شخص اپنے پڑوسی کے حقوق کا خیال رکھے تو معاشرہ امن، محبت اور باہمی اعتماد کا گہوارہ بن جائے گا۔ یہی اسلام کا اصل حسن اور نبوی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔
سن 1948 میں منظور ہونے والیUniversal Declaration of Human Rightsکے متعدد آرٹیکلز انسانوں کے درمیان باہمی احترام، حفاظتِ حقوق، مساوات اور اخلاقی برتاؤ کی ایسی بنیاد رکھتے ہیں جو بالواسطہ طور پر ہمسائے کے حقوق کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ یہ منشور انسان کو پروقار اور پرامن زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے، جو خود بخود اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہر فرد اپنے آس پاس رہنے والوں کے ساتھ حسنِ سلوک، رواداری اور احترام کا معاملہ کرے۔ لیکن حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو برس قبل ہی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسی کے حقوق کو جس جامعیت، شدّت اور اخلاقی عظمت کے ساتھ بیان فرمایا ، وہ انسانی تاریخ میں اپنی نظیر آپ ہے۔ آپ ﷺ نے ہمسائے کے ساتھ حسنِ سلوک کو اس قدر اہم قرار دیا کہ صحابہ کرامؓ نے گمان کیا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں بھی شریک کر دیا جائیگا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں ہمسائے کی عزت، اس کی راحت، اس کی حفاظت، اس کے دکھ درد میں شریک ہونا اور کسی قسم کی ایذا سے مکمل پرہیز ایسے حقوق ہیں جن کا احاطہ کرنا انسانی بیان سے باہر محسوس ہوتا ہے۔
یوں گویا جدید دنیا نے 1948 میں جن اصولوں کو عالمی منشور کی شکل دی، اسلام نے انہیں صدیوں قبل نہ صرف متعارف کرایا بلکہ عملی زندگی میں رچانے بسنانے کی تعلیم بھی دی۔ اور جب ان تعلیماتِ حقوقِ ہمسایہ کو عملی زندگی میں نافذ کیا گیا تو ایک ایسی مثالی اور باوقار سوسائٹی وجود میں آئی جس کی تہذیبی عظمت، معاشرتی ہم آہنگی اور انسانی شرافت کو دنیا آج بھی عظمت و احترام کے ساتھ یاد کرتی ہے۔
