از:۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔کروشی بلگام کرناٹک۔8105493349

بابر کی وفات پر اس کا سب سے بڑا بیٹا ہمایوں تخت پر بیٹھا۔ ہمایوں نے اپنے باپ کی وصیت کے مطابق اپنے بھائی کامران کو کابل اور قندھار، مرزا عسکری کو میوات اور ہندال کو سنبھل، ضلع مراد آباد کا علاقہ دیا۔ بابر کو اپنی زندگی میں اتنی فرصت نہ ملی کہ سلطنت کو مضبوط کرتا۔ مغلیہ سلطنت اس وقت بالکل ابتدائی حالت میں تھی اور کئی مخالف طاقتیں اس کا خاتمہ کر دینے پر تلی ہوئی تھیں، اس لیے تخت نشین ہوتے ہی ابتدائی مشکلات نے ہمایوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ جونپور میں محمود لودھی، بہار میں شیر خان، بنگال میں نصرت شاہ اور گجرات میں بہادر شاہ نے بغاوت کا جھنڈا بلند کر دیا۔ ادھر راجپوت الگ سرکش ہو گئے۔ اس کے علاوہ اس کے تینوں بھائی بے وفا ثابت ہوئے اور انہوں نے ہمایوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ کامران نے پنجاب پر قبضہ کر لیا اور اپنے علاقہ سے فوج بھرتی کرنے کی ممانعت کر دی، جس سے ہمایوں کی فوجی طاقت کمزور ہو گئی اور آخر میں اس کو سلطنت سے ہاتھ دھونے پڑے۔
ہمایوں سب سے پہلے جونپور کے خلاف چڑھائی کی اور اسے فتح کر لیا۔ پھر اس نے بہار کے حاکم شیر خان کو چنار کے مقام پر شکست دی، لیکن ہمایوں سے ایک غلطی ہوئی کہ اس نے شیر خان کی طاقت کو پوری طرح سے نہیں مٹایا اور واپس چلا آیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ افغان طاقت پکڑ گئے اور اسے ہندوستان کا تخت چھوڑنا پڑا۔ بہادر شاہ، والیِ گجرات، ایک بڑا زبردست بادشاہ تھا۔ اس نے خاندیش، برار، احمد نگر اور مالوہ فتح کر کے اپنی سلطنت کو وسیع کر لیا تھا۔ اس نے ہمایوں کے ایک باغی رشتہ دار کو پناہ دی، اس لیے 1535ء میں ہمایوں نے گجرات پر حملہ کر دیا۔ بہادر شاہ بھاگ گیا اور ہمایوں نے گجرات پر قبضہ کر لیا۔ اسی عرصہ میں ہمایوں نے قلعہ چمپا نیر کا محاصرہ کیا۔ اس مضبوط قلعہ میں گجرات کے بادشاہوں کا کئی پشتوں سے دبا ہوا خزانہ موجود تھا۔ ہمایوں نے اس قلعہ کو فتح کرنے میں بہت بہادری دکھائی۔ سپاہیوں کے ساتھ قلعے کی دیوار میں لوہے کی کیلیں گاڑ کر چڑھ گیا اور قلعہ کو فتح کر لیا۔ یہاں سے اسے بہت خزانہ ملا۔ ہمایوں اپنے بھائی عسکری کو گجرات کا گورنر مقرر کر آیا، مگر بہادر شاہ نے جلد ہی دوبارہ قبضہ کر لیا اور عسکری آگرہ کو بھاگ گیا۔
ہمایوں کی گجرات میں مصروفیت سے فائدہ اٹھا کر شیر خان نے بنگال اور بہار پر قبضہ کر لیا۔ جب ہمایوں کو یہ خبر ملی تو وہ بنگال کی طرف روانہ ہوا اور چنار گڑھ کو فتح کر لیا۔ شیر خان بڑا موقع شناس تھا۔ اس نے سب خزانہ لے کر رہتاس کے قلعہ میں جا بیٹھا اور اس کا لڑکا ہمایوں کا مقابلہ کرتا رہا۔ ہمایوں نے شیر خان کے بیٹے کو کئی مقامات پر شکست دی اور مشرقی کے دارالخلافہ گوڑ پر قبضہ کر لیا۔ اب موسمِ برسات شروع
ہو گیا اور ہمایوں کی فوج موسمی بخار میں مبتلا ہو گئی۔ ادھر شیر خان نے رسد رسانی کے تمام وسائل بند کر دیے، جس سے ہمایوں کو بہت مصیبت کا سامنا ہوا۔ آخر تنگ آ کر ہمایوں نے شیر خان سے معمولی شرائط پر صلح کر لی، مگر جب ہمایوں بکسر کے قریب چوسہ کے مقام پر سو رہے تھے تو شیر خان کے سپاہیوں نے اچانک مغلیہ فوج پر حملہ کر دیا۔ ہمایوں جان بچا کر بھاگا اور اپنے گھوڑے کو دریائے گنگا میں ڈال دیا۔ گھوڑا تو طغیانی کی وجہ سے ڈوب گیا، مگر ہمایوں نظام سقہ کی مدد سے دریائے گنگا پار ہوا۔ جب آگرہ پہنچا تو ہمایوں نے نظام کو آدھا دن سلطنت کرنے کی اجازت بخشی۔ نظام نے اس عرصۂ حکومت میں چمڑے کا سکہ چلایا اور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو مالا مال کر دیا۔ ایک سال بعد ہمایوں نے بھاری فوج کے ساتھ شیر خان پر حملہ کیا، مگر 1540ء میں قنوج کے مقام پر شکست کھائی اور جان بچا کر آگرہ کی طرف بھاگ آیا۔
ہمایوں شکست کھانے کے بعد لاہور پہنچا تاکہ اپنے بھائی کامران سے مدد حاصل کرے، مگر کامران شیر خان سے ڈر کر کابل بھاگ گیا تھا، اس لیے ہمایوں مایوس ہو کر اپنی ملکہ حمیدہ بیگم اور چند وفادار سرداروں کے ساتھ صحرائے راجپوتانہ کی طرف روانہ ہوا۔ کئی مصیبتیں سہتا ہوا امرکوٹ پہنچا۔ یہاں 14 اکتوبر 1542ء کو اس کے ہاں اکبر پیدا ہوا، جو اکبر اعظم کے لقب سے ہندوستان کا بادشاہ ہوا۔ یہاں سے بعد ازاں وہ قندھار کی طرف آ گیا اور اپنے بھائی عسکری سے مدد کا طلب گار ہوا، مگر مدد دینے کی بجائے عسکری نے اسے قید کرنا چاہا، اس لیے ہمایوں اکبر اور اپنی بیوی کو اس کے رحم پر چھوڑ کر ایران بھاگ گیا۔ ایران کا بادشاہ طہماسب اس کے ساتھ بڑی مہربانی سے پیش آیا۔ اس جگہ ہمایوں نے پندرہ سال کے قریب قیام کیا۔
شاہِ ایران نے 14 ہزار سپاہ سے ہمایوں کی مدد کی۔ اس ایرانی فوج کی مدد سے 1547ء میں ہمایوں نے قندھار اور کابل فتح کر لیے۔ کامران کی آنکھیں نکلوا دی گئیں اور وہ عسکری کے ساتھ حج کو چلا گیا۔ 1555ء میں ہمایوں نے ہند پر حملہ کیا۔ اس وقت شیر شاہ سوری فوت ہو چکا تھا اور اس کے جانشین کمزور تھے، اس لیے ہمایوں کے لیے راستہ صاف تھا۔ سکندر سوری کو سرہند کے مقام پر شکست دے کر دہلی اور آگرہ پر قبضہ کر لیا، لیکن اس کی قسمت میں چھ ماہ سے زیادہ حکومت کرنا نصیب نہ ہوا۔ ہندوستان کی حکومت دوبارہ حاصل کرنے کے بعد ہمایوں طویل عرصہ زندہ نہ رہا۔ وہ ایک شام اپنے کتب خانہ کی سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ اذانِ مغرب کی آواز سنی۔ وہ سیڑھیوں پر ہی رک گیا، مگر بدقسمتی سے اس کی لاٹھی پھسل گئی اور وہ سیڑھیوں سے گر کر شدید زخمی ہو گیا اور انہی زخموں سے اس کا انتقال ہو گیا۔ مشہور یورپی مؤرخ لین پول کے مطابق “اس نے تمام عمر ٹھوکریں کھائیں اور بالآخر ٹھوکر کھا کر مرا۔”
ہمایوں خصائلِ پسندیدہ کا مجموعہ تھا۔ اپنے باپ بابر کی طرح بڑا عالم اور عالموں کا قدر دان تھا۔ علمِ ریاضی اور نجوم میں اسے کمال حاصل تھا۔ فارسی نظم، فلسفہ میں ماہر تھا۔ وہ قول کا پکا تھا اور دوسروں پر جلدی اعتبار کر لیتا تھا۔ فنونِ جنگ میں ماہر تھا، مگر زبردست بادشاہ ثابت نہ ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس میں انتظامی قابلیت کی کمی تھی اور وہ زیادہ نرم اور متلون مزاج تھا۔ ایک کام ختم نہ ہوتا تھا کہ دوسرا شروع کر دیتا تھا۔ اس کی نرمی کی وجہ سے اس کے بھائیوں نے اسے بہت تنگ کیا اور اس کی تباہی کا باعث بنے۔ وہ فتوحات کے بعد لا پرواہ ہو جاتا اور بہت سا وقت جشن منانے میں ضائع کر دیتا تھا۔ بڑھاپے میں افیون کھانے کی عادت پڑ گئی تھی، مگر اپنی فیاضی اور رحمدلی میں ہمایوں سب مغل بادشاہوں میں ممتاز درجہ رکھتا تھا۔
