بنگلور:۔ابھی تک بی جے پی رکن اسمبلی رمیش جارکیہولی سی ڈی معاملے کی تحقیقات بھی پوری نہیں ہوئی ہیں۔ ایسے میں ایک اور بی جے پی لیڈر جو اپنے مستقبل سے پریشان ہوکر جلدبازی میں جو فیصلہ لیا ہے اس کو لیکرعوام انہیں شک وشبہات کا نشانہ بنا رہی ہے۔ دراصل حال ہی میں مرکزی وزیر سدانندگوڑا نے اپنے خلاف کسی بھی نیوز چینلز میں کسی بھی طرح کی غلط خبریں شائع نہ کرنے اور جعلی سی ڈی افشاں نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئےبنگلورو سٹی سیول کورٹ میں میڈیا کے خلاف اسٹے آرڈر حاصل کیا ہے۔اس خبر نےیک بار پھر سے بی جے پی قائدین کوشک کے دائرے میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔اس عمل کے ذریعہ وزیر سدانندگوڑا کو اپوزیشن اورعوام کی جانب سے یہ سوال اٹھارہا ہےکہ کیا انہیں بھی سی ڈی کا خوف کھائے جارہا ہے؟۔ وزیر موصوف نےاپنی عرضی میں بتایا ہے کہ اگر کسی بھی طرح کی فرضی سی ڈی انکے خلاف افشاں کی جاتی ہے تو یہ انکےاخلاق اورکردارکی توہین ہوگی ۔ واضح ہوکہ کچھ ماہ قبل ہی رکن اسمبلی رمیش جارکی ہولی کی فحش سی ڈی افشاں ہوئی تھی۔ اس معاملے کے بعد وزیر شیورام ہیبار، بی سی پاٹل، بھیرتی بسوراج، کے سودھاکر، ایس ٹی سوم شیکھر اورنارائن گوڑا نے اپنے خلاف کسی بھی طرح کی غیر تصدیق شدہ خبروں کو شائع نہ کرنےکیلئے میڈیا کے خلاف اسٹے آرڈ کا مطالبہ کرتے ہوئے سٹی سیول کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ کورٹ نے بھی عرضی قبول کرتے ہوئے ہتھک عزت معاملے سے جڑی خبروں کو شائع نہ کرنے پر میڈیا کو حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں ریاست کے تمام میڈیا چیانلوں کو ایمرجنسی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
