داونگیرے؛داؤنگیرہ جنوبی اسمبلی حلقہ کی ضمنی انتخاب کی سیاست روز بروز دلچسپ اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے امیدوار افسر کوڈلی پیٹے کے حق میں اسدالدین اویسی کے پرچار کی آمد کا امکان کانگریس لیڈروں کی نیند اڑا رہا ہے۔تاہم ایس ڈی پی آئی کے سابق صدر اسماعیل ذبیع اللہ نے اسدالدین اویسی کی آمد اور ایم آئی ایم کی حمایت کے بارے میں کہا ہے کہ ہمیں اس کا علم نہیں ہے اور اس کے امکانات بھی کم ہیں، کیونکہ ایم آئی ایم کا طریقہ کار الگ ہے اور ہماری پارٹی الگ ہے۔داؤنگیرہ جنوبی حلقہ میں تقریباً 35 سے 40 فیصد مسلمان ووٹرز ہیں، جو روایتی طور پر کانگریس کے ووٹ بینک سمجھے جاتے تھے۔ اگر ایس ڈی پی آئی اور اویسی کی ایم آئی ایم کے درمیان کوئی اتحاد یا حمایت ہو جائے تو نوجوان مسلمان ووٹر کانگریس کی نرم پالیسیوں سے ناراض ہو کر اس نئے متبادل کی طرف جا سکتے ہیں۔ مسلمان ووٹوں کی تقسیم کانگریس کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو گی اور اس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو پہنچے گا۔ایک طرف ایس ڈی پی آئی کا چیلنج ہے تو دوسری طرف کانگریس ٹکٹ کے امیدوار صادق پہلوان نے بغاوت کرتے ہوئے آزاد امیدوار کے طور پر نامزدگی کاغذات جمع کرا دیے ہیں۔ یہ اندرونی بغاوت اور بیرونی ایس ڈی پی آئی کا دباؤ کانگریس امیدوار کی جیت کی راہ میں کانٹے بن سکتا ہے۔مسلمان ووٹوں کی تقسیم روکنے کے لیے کانگریس لیڈر الرٹ موڈ میں ہیں۔ وہ میدان میں موجود مسلمان امیدواروں کو میدان سے ہٹانے کی آخری کوششیں کر رہے ہیں۔ صادق پہلوان اور ایس ڈی پی آئی امیدوار کو منانے کے لیے کانگریس نے کمیونٹی کے اثر و رسوخ والے لیڈروں اور مذہبی رہنماؤں سے مدد طلب کی ہے۔ کسی بھی صورت میں مسلمان ووٹوں کے بٹوارے کو روکنے کے لیے پردے کے پیچھے سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔اس ضمنی انتخاب میں مسلمان ووٹوں کی تقسیم جتنی زیادہ ہو گی، اتنا ہی بی جے پی کی جیت کا راستہ آسان ہوتا جائے گا۔ کانگریس ابھی تک اندرونی بغاوت اور بیرونی چیلنج سے نمٹنے کی کوشش میں مصروف ہے جبکہ میدان میں تین کونوں کی لڑائی کا منظر بنتا دکھائی دے رہا ہے۔یہ ضمنی انتخاب (9 اپریل کو ووٹنگ) نہ صرف داؤنگیرہ بلکہ پورے کرناٹک کی سیاست کے لیے اہم ٹیسٹ ثابت ہو سکتا ہے۔غور طلب بات ہے کہ اے آئی یم آئی یم کے صدر بیریسٹر اویسی کی آمد کی افواہ سے ہی کانگریس میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔
