ساگر: مرکزی اور ریاستی حکومتوں نےکورونا لاک ڈاؤن کے دوران بی پی ایل اور اے پی ایل کارڈ ہولڈرز کے اکاؤنٹ میں اگر 5000 روپے جمع کئےہوتے تو لوگ کم ازکم گنجی پی کرہی اپنے آپ کو زندہ رہ سکتے تھے۔ان باتوں کا اظہار کے پی سی سی ترجمان گوپال کرشنا بیلور نے کیاہے۔انہوں نے یہاں کے انلےکوپہ میں گوپال کرشنا بیلور ابھیمانی بلگا کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں اسکولوں کے اومنی ڈرائیوروں کو راشن کٹ کی تقسیم اورکورونا سے ہلاک ہونے والے خاندان کیلئے 10ہزار کاچیک تقسیم کیا اوراس دوران اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت اوراراکین اسمبلی کو دکھی وپریشان عوام کے آنسو پونچھنے کاکام کرنا چاہئے۔ مختلف کاموں پر ہزاروں کروڑ روپئےخرچ کرنے والی سرکار کوعوام کے اتنے مشکل وقت میں مدد کیلئے کھڑے ہونا چاہئے۔ تمام اے پی ایل اور بی پی ایل کارڈصارفین کیلئے معاوضہ دیا جاتا ہے تو100 کروڑ کی امداد لگ سکتی ہے اور یہ حکومت پرکوئی بڑا بوجھ نہیں ہے۔ کوئی بھی ایک ترقیاتی کام کو روکتے ہوئے ، کورونا کی مشکلات میں مبتلاء خاندانوں کیلئے مالی تعاون کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر کانگریس سٹی یونٹ کے صدر آئی این سریش بابو ، جنرل سکریٹری وی شنکر ، ممتاز ، مقبول احمد ، سو م شیکھر ، اشوک بیلور اور سنتوش موجود تھے۔
