شیموگہ:ملناڈ کے بیش قیمتی وسائل ،خوبصورت قدرتی نظارے،یہاں کی تہذیب، تمدن، فنکاری ادب، تحریک اور سماجی جدوجہد کے ذریعےریاست کی توجہ اپنی طرف راغب کروانےوالے واحد شخصیت قومی شاعر کوئمپو ہے۔شیموگہ شہر میںزیر تعمیر انٹرنیشنل ہوائی اڈے کی تعمیر یہاں کے لوگوں کا ایک طویل خواب رہا ہے۔ جو کہ اب جاکر پورا ہورہا ہے۔ اسکے پیچھے وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا کی کوششوں کا نتیجہ ہے ، وزیر اعلیٰ کے اس اقدام کی جتنی ستائش کی جائے کم ہوگی۔ ان باتوں کا اظہار ایچ ڈی کے ملناڈ بریگیڈ کےصدرصبغت اللہ نے کیا ہے۔ انہوں نے شیموگہ ہوائی اڈےکو قومی شاعر کوئمپوکے نام سے منسوب کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں سےیہ مسئلہ کافی بحث کا موضوع بنا ہواہے۔ یقیناًشیموگہ میں ایک عمدہ و اعلیٰ معیاری ہوائی اڈے کی تعمیر کا خواب وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا کی کاوشوں کو نتیجہ ہے۔ جب سے شیموگہ ہوائی اڈےکو بین الاقوامی سطح پر تعمیر کرنے کیلئے دوبارہ منصوبہ بندی کا سلسلہ شروع ہواہےتب سے ہوائی اڈے کو نامزد کرنے کیلئے بہت سارے لوگوں کی جانب سے تجاویز سامنے آئی ہیں۔اس کا احساس کرتے ہوئے ایچ ڈی کے ملناڈ بریگیڈنے بھی اپنی تجویز پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت شیموگہ ہوائی اڈ ے کیلئےقومی شاعرکوئمپوکے نام کوہی حتمی شکل دینے کو ترجیح دے۔ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر تعمیرہورہے ہوائی اڈے کے سامنے مستقل طور پر ایک ریاستی پرچم کاستون جس پر ہمیشہ کنڑی پرچم لہراتارہے اس کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ کنڑا کی یہ سرزمین جو کسی بھی ذات پات کی تفریق کو جگہ دئے بغیر متحد اور ہم آہنگی کا نمونہ رہی ہے۔تنظیم نے بتایا کہ شیموگہ ہوائی اڈے کو قومی شاعر کوئمپو کےنام سے منسوب کرنے سے کسی کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے ، کیونکہ یہ وہی شاعر ہیں جنہوں نے ریاست کی تہذیب، وادب کو اپنے ادبی میدان کے ذریعہ نہ صرف ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان دلانے کا کام کیا ہے۔انہوں نے ہی کنڑی تہذیب کو دنیا بھر میں علیحدہ شناخت دلائی ہے۔ قومی شاعر کوئمپوکا نام ہی اس ہوائی اڈے کیلئے مناسب ہے۔ لہٰذا تنظیم نے پرزور دبائوڈالاہے اور ساتھ ہی عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی اپنی جانب سے اس بات کا حکومت پر دبائو ڈالے کہ شیموگہ ہوائی اڈے کو کوئی دوسرا نام نہیں بلکہ قومی شاعر کوئمپوکانام ہی منسوب کریں۔
