2018 سے 2020 تک نکسل واقعات میں 625 افراد لقمہ اجل بنے: حکومت

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔حکومت نے منگل کے روز کہا ہے کہ ملک میں 2018 سے 2020 تک کے تین سال کے عرصہ میں ملک میں نکسل واد سرگرمیوںاوربائیں بازو کی انتہا پسندی کے 2168 واقعات میں 625 افراد ہلاک ہوئے۔یہ معلومات وزیر مملکت برائے داخلہ نیتانند رائے نے لوک سبھا میں للو سنگھ اور نتیش گنگا دیو کے سوال کے تحریری جواب میں دی ہیں۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہاکہ پچھلے تین سالوں میں نکسل سرگرمیوں اور بائیں بازو کی انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سال 2018 میں 833 ایسے واقعات میں 240 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ 2019 میں 670 واقعات میں 202 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 2020 میں 665 واقعات میں 183 افراد ہلاک ہوئے۔ایک اور سوال کے جواب میں نیتانند رائے نے بتایا کہ ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے مشترکہ آپریشن کے دوران، سی آر پی ایف کے اہلکاروں سمیت 22 سیکیورٹی اہلکار 3 اپریل 2021 کو چھتیس گڑھ، جاگر گنڈہ پولیس اسٹیشن میں بائیں بازو انتہا پسندوں کے ساتھ ایک لڑائی میں مارے گئے8 اور 14 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی کی پریشانی سے نمٹنے کے لئے حکومت ہند نے سن 2015 میں ایک قومی پالیسی اور ایکشن پلان تیار کیا ہے جس میں حفاظتی اقدامات، ترقیاتی اقدامات اور حقوق و استحقاق کو یقینی بنانے کے لئے ایک کثیر الجہتی نقطہ نظرکو شامل کیاہے۔