دیوبند:۔دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی کا آج دوپہر بجے انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا مرحوم کافی دنوں سے علیل تھے ۔ بیچ میں طبیعت میں کچھ افاقہ بھی ہوا تھا لیکن ادھر دو تین دنوں سے حالت سنگین تھی۔ اللہ انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا فرما۔مولانا مرحوم کی پیدا ئش قصبہ سنبھل،ضلع مراد آباد میں۴‘جنوری ۱۹۵۰ کو ہو ئی۔آپ نے مدرسہ ‘خیر المدارس سے تعلیم کا آغازکیا۔ اس وقت وہاں حضرت مفتی محمد آفتاب علی مدرس تھے۔ اس مدرسہ میں آپ نے حافظ فرید الدین سے قرآن کریم حفظ کی تکمیل کی۔ فارسی اور ابتدائی عربی سے شرح جا می تک کی تمام کتب حضرت اقدس مو لانا مفتی محمد آفتا ب صاحب سے پڑھیں اور پھر ۱۹۶۸میں دارالعلوم دیوبند چلے گئے۔آپ بچپن ہی سے بڑے ذہین طباع اور غیر معمولی دماغی قوت و صلاحیت سے معمور تھے۔اس کے بعدآپ ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات کے لئے منتخب کر لئے گئے، دارالعلوم دیوبند میں آپ کا تقرر ۱۹۸۲میں ہوا اس وقت سےآج تک ۳۹ سال تک دارالعلوم کی خدمت کی۔ مولانا کامیاب مدرس، بہترین قلم کا ر ہو نے کے ساتھ بہت اچھے مقرر بھی تھے۔آپ کی تقریر یں صاف شستہ سلجھی ہو ئی اور مؤثر ہو تی تھیں متعدد مر تبہ آپ دارالعلوم دیوبند کے نا ظم امتحان رہے اور برسوں دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم بھی رہے۔۔آپ نے کئی مو ضوعات پر قلم اٹھا یا ہے، چنانچہ کئی عمدہ کتا بیں آپ کے رشحات قلم سے صادر ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں اور علمی حلقوں سے داد تحسین حاصل کر چکی ہیں،ان میں فتاوی عالمگیری جز ۵۱/ (کتاب الایمان)کا تر جمہ تحسین المبانی فی علم المعانی میں ضمیمہ کا اضافہ، عبد المجید عزیز الزندانی الیمنی کی کتاب ‘التوحید کا تر جمہ جو تقریباً 500/صفحات پر مشتمل ہے اور پانچ حصوں پر مشتمل رد مودودیت پر محاضرے جو دارالعلوم دیوبند کی جانب سے شائع کئے گئے‘‘۔ علم و عمل کا یہ حسین سنگم ۳۰؍ جولائی ۲۰۲۱ کو ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔
