میمورنڈم، کمپلینٹ، ایف آئی آر

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
جمہوری نظام میں بولنے کی آزادی، رہنے کی آزادی، تنقید کرنے کی آزادی اوراحتجاج کی آزادی دی گئی ہے، اس ملک میں یہ چیزیں دستیاب ہوںاسی ملک کو جمہوریت کا علمبردارکہا جاتا ہے۔ آئے دن بھارت میں مختلف مرحلوںمیں اس آزادی کا الگ الگ طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان حقوق کا غلط استعمال کرتے ہیںاور اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ ہم جمہوری ملک میں ہیں اسلئے اپنی رائے کا اظہار بغیر کسی خوف کے کررہے ہیں ۔ اسی طرز کو جمہوریت کہتے ہیں۔ اب چلئے اس طریقہ کار پر روشنی ڈالیں جس سے ہمیشہ شرپسندوں ، منفی نقادوںاور فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند رہتے ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے لوگ ایک دوسرے مذاہب پر انگلی اٹھاتے ہیں، قوموں سے قوموں کو لڑوانے کا کام کرتے ہیں، ملک میں شرپسند اکثر توہین مذاہب ، توہین رسالت اور مقدس کتابوں کی توہین میں لگے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں دوسرا طبقہ جو ان معاملات کی مخالفت کرتا ہے وہ قصوروارں کو سخت سے سخت سزا دلوانے کیلئے ڈپٹی کمشنر، کمشنر ، ایس پی ، یا پھر پولیس کمشنر کو یادداشت یعنی میمورنڈم پیش کرتے ہیںاور اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ خطاکاروں کو سخت سے سخت سزادی جائے، مطالبہ کیا جاتا ہے کہ حکومتوں کو تحلیل کردیا جائے، مطالبہ ہوتا ہے کہ پولیس قصوروارں کو جیل میں بند کردیں، مطالبہ ہوتا ہے کہ قصوروارں پر لگام کسی جائے۔ میمورنڈم میں اپیل کی جاتی ہے کہ مظلوموں کو انصاف دلایا جائے۔ یقیناً اسطرح کے یادداشت پیش کرنے سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ ہم بھی زندہ ہیں ، لیکن وہ بات کہاں پوری ہوگی جو میمورنڈم میں کی جاتی ہے، ہاں میمورنڈم سے لوگ اپنے لئے بنیادی سہولیات جیسے،پینے کے پانی کی سہولت ، سڑکوں کی مرمت تک کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔مگر وہ معاملہ جو حقیقت میں مجرمانہ نوعیت رکھتے ہیں، کسی کی عزت سے کھلواڑ، کسی کی شان میں گستاخی ، کسی کی توہین یاپھر کسی کو ظلم وتشدد کا نشانہ بنانے کی اپیل جیسے مجرمانہ نوعیت والے معاملات ہیں۔ ان معاملات سے نمٹنے کیلئے میمورنڈم نہ کافی ہے نہ ہی صرف شکایت دے کر واپس لوٹ آنا مسئلے کا حل ہے۔ ہاں شکایت دے کر اس شکایت پر عمل درآمد ہونے کیلئے میمورنڈم دینے کا سلسلہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں پر بیشتر موقعوں پر دیکھا گیا ہے کہ یہاں پرلوگ میمورنڈم دےدیتے ہیں لیکن قانونی کارروائی کرنے کیلئے ایف آئی آر درج نہیں کروائی جاتی۔ قانون کی نظر میں میمورنڈم کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ایسے کئی میمورنڈمس ، ایس پی آفیس، ڈی سی آفیس میں پڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ لیکن کیا کسی نے اب تک کہیں دیکھا ہے کہ کیا کسی کو میمورنڈم کو لیکر کسی کو گرفتار کیا گیا ہے یا کارروائی کی گئی ہے۔ اصل میں کارروائی کرنے کیلئے شواہد ، ٹھو س شکایت کے ساتھ ثبوت اورایف آئی آر کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایف آئی آر کے بغیر کوئی کارروائی نہ پولیس کرسکتی ہے نہ ہی عدالتیں۔ دلی سے لیکر کنیا کمار، گجرات سے لیکر بنگال تک کے لوگ اپنی شکایت کو لیکر میمورنڈم پیش کرتے ہیں ، مگر کوئی بھی حکومت میمورنڈم کو نوٹ نہیں کرتی، ہاں روٹی، کپڑا اورمکان جیسے مسائل کو حل کرنے کیلئے جو میمورنڈم دئے جاتے ہیں اس پر غور ضرور کیا جاتا ہے۔ حق کا مطالبہ کرنا اورظلم کیلئے آواز اٹھانے کا نام میمورنڈم دینا نہیں ہےبلکہ شکایت پیش کرنے سے لیکر آواز اٹھانے تک کے درمیان کا جو حصہ ہوتا ہے وہ میمونڈم کہلاتا ہے اورجو کام حق کیلئے کیا جاتا ہے وہی قانونی نوعیت حاصل کرپاتا ہے۔ میمورنڈم دینے سے میڈیا میں بھلے ہی شہرت مل جائے لیکن حقیقت میں کارروائی نہیں ہوتی۔ ان حالات میں حقیقی کارروائی کی جانب توجہ مبذول کروانے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کا بڑا حصہ اب بھی اس کشمکش میں ہے کہ آخر کریں تو کیا؟۔ جائیں تو جائیں کہاں ؟۔ دوسری جانب میمورنڈم دینے اور پبلکسٹی حاصل کرنے کیلئے ایک طرح سے دوڑ بھی لگی ہوئی ہے۔ لوگ محض ایک تصویر اور اخبار میں ناموں کی اشاعت کیلئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ اسکے بجائے متنازعہ بیانات دینے اورمشکوک حرکتوں میں ملوث لوگوں پر ایف آئی آر درج کروائی جائے تو یہ بہت بڑا کام ہوسکتا ہے۔ اسکے بعد کام کو درست کروانے کیلئے کارروائی ہوتی ہے تو خاطرخواہ نتائج سامنے آئیںگے۔