مدارسِ اسلامیہ کے خلاف غلط بیان بازی پر اعتراض:کانگریس اقلیتی شعبہ نے کیا احتجاج

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی کے مداراس اسلامیہ پر دئے گئے بیان کی مذمت میں آج ضلع کانگریس اقلیتی شعبے نے احتجاج کرتے ہوئے سی ٹی روی کو انکے عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ضلع انتظامیہ کے ذریعہ ریاستی گورنرکو میمورنڈم پیش کیاہے۔ مظاہرین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی ٹی روی نے مدرسوں کے بارے میں انتہائی طنزیہ انداز میں بات کی ہے۔ مدرسوں میں طالبانی پیدا ہونے کا دعویٰ کرکے وہ ریاست کے امن وسکون کو برباد کرنا چاہ رہےہیں۔سی ٹی روی کے اس بیان پر کانگریس اقلیتی شعبہ شدید مذمت کرتا ہے۔مزید الزام لگایا کہ درگاہ ، مسجد ، مدرسہ کے بارے میںاشتعال انگیز باتیں کرکے سی ٹی روی فرقہ وارانہ فساد برپا کرنے کی سازش کررہے ہیں۔سی ٹی روی اس بات کو بھول گئے ہیں کہ مدارس اسلامیہ کے طالب العلم جو جدوجہد آزادی میں حصہ لینے کی تاریخ رکھتےہیں۔انہوں نے بی جے پی اورآر ایس ایس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس دفتر میں آزادی کے بعد سے لیکر اب تک بھی ترنگا نہیں لہرایا گیا ہے اور ایسے لوگ اپنے آپ کو سچے دیش بھگت کہتے ہیں ایسے جعلی محب وطن مدارس کے بارے میںبات کرکے معاشرے میں امن وسکون کو پامال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لہٰذاسی ٹی روی کو ایم ایل اےکے مقام سے برطرف کیاجانا چاہئے وہ اس عہدے کے قابل نہیں ہیں۔ احتجاج میں ضلع کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر محمد عارف اللہ،محمد نہال(نیلو)، اقبال نیتاجی، رحمت اللہ، سید وحید اڈو، محمد حسین، مظہر جاوید، عرفان خان، آصف مسعود، احمد بیگ وغیرہ موجودتھے۔