داخل- خارج سے انفرادی ملکیت یا مفاد کا کوئی حق نہیں بنتا: سپریم کورٹ

سلائیڈر نیشنل نیوز

دہلی:۔(نیوز ایجنسی):۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ داخل اورخارج سے کسی بھی شخص کے حق میں کسی بھی جائیداد کاحق، ملکیت یا مفاد نہیں دیتا اور یہ صرف مالی مقاصد کیلئے ہے۔کسی پراپرٹی کی فائلنگ کا مطلب مقامی میونسپل کارپوریشن یا تحصیل انتظامیہ کے ریونیو ریکارڈ میں ملکیت کی منتقلی یا تبدیلی ہے۔جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس انیرودھا بوس کی بنچ نے یہ بھی کہا کہ اس میں اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ وصیت کی بنیاد پر صرف وصیت کنندہ کی موت کے بعد ہی حق کا دعوی کیا جا سکتا ہے۔بنچ نے کہاکہ قانون کی طے شدہ شق کے مطابق کسی بھی شخص کے حق میں کوئی حق، ملکیت یا مفاد نہیں بنتا اور محصولات کے ریکارڈ میں داخل خارج صرف مالی مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اگر ملکیت کے حوالے سے کوئی تنازعہ ہے اور خاص طور پر جب وصیت کی بنیاد پرداخل اورخارج کا اندراج مانگا جاتا ہے تو جو فریق ملکیت یا حق کا دعویٰ کر رہا ہے اسے مناسب عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔عدالت نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کے حقوق صرف ایک مجاز سول کورٹ کے ذریعے حاصل کئے جا سکتے ہیں اور عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر ضروری داخل اورخارج کیا جا سکتا ہے۔اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ریونیو ریکارڈ میں جائیداد کا تغیر نہ تو جائیداد کی ملکیت بناتا ہے اور نہ ہی ختم کرتا ہے۔ اس طرح کے اندراجات صرف زمین کی آمدنی کو محفوظ بنانے سے متعلقہ ہیں۔