علی بابا40چور

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ہندوستان پر مسلمانوں نے800 سال حکومت کی،ان800 سالوں میں ہندوستان کا جو موجودہ نقشہ ہے وہ بالکل بھی نہ تھا،اس نقشے میں بنگلہ دیش،پورا پاکستان اور آدھا افغانستان شامل تھا۔800 سال تک حکومت کرنے کے بعد آج بھلے ہی مسلمانوں کے پاس اس پورے نقشے کے ممالک نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان میں انگریزوں کی آمدکے بعد مسلمانوں کی حکومت باقی رہی،لیکن مسلم حکمرانوں کی جانب سے جو املاک وجائیداد باقی چھوڑ گئے تھے وہ بھی مسلمانوں کے پاس نہیں رہی۔اب اگر مسلمانوں کے پاس تو کچھ ہے اور مسلمان اپنے آپ کو قابل فخر محسوس کرتے ہیں تو وہ وقف املاک ہے جس کی تعداد ہندوستان میںتیسری سب سے بڑی املاک کے طو رپر قرار دی گئی ہے اور یہ پوری املاک ملک کے مختلف وقف بورڈ کے ماتحت آتی ہے اور اسے حکومت کی نگرانی میں انفرادی طور پر کنٹرول کیاجاتاہے۔لیکن کیا کسی مسلمان نے یہ سُناہے کہ وقف املاک پر قبضہ کرنے والے مسلمانوں کو یا قابض لوگوں کو سزا ملی ہے،یا پھر اپنی ہی املاک کو حاصل کرنے کیلئے دستاویزات ہونے اور اوقافی اداروں کی تصدیق ہونے کے باوجود بھی مسلمان کبھی بھی ان اوقافی اداروں کو کھل کر استعمال نہیں کرپائے ہیں۔حالانکہ وقف بورڈ کو اٹانومس باڈی یعنی خود مختار ادارہ ہے باوجود اس کے اس ادارے میں آئی اے ایس و دیگر پبلک سروس افسران موجود رہتے ہیں اور یہ افسران حکومت کے دائرےمیں ہی کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سےیہ افسران کبھی بھی کیسے بھی اپنے احکامات وقف بورڈ پر صادر کرنے کی کوشش کرتے ہیں،جس سے آج بھی وقف بورڈ کو حکومت کا ہی غلام کہاجاسکتا ہے۔دیکھنے اور سننے والوں کو وقف بورڈبہت طاقتور ادارہ دکھتا ہے لیکن سب سے زیادہ کھوکھلا ادارہ ہے۔اربوں روپیوں کی آمدنی والے اس ادارے کی دیکھ ریکھ کیلئے حکومت کی جانب سے افسروں کی تقرری کی جاتی ہے جبکہ یہ افسران حکومت کے ہی نمائندے ہوتے ہیں۔جن لوگوں کو دین،اوقاف اور شرعی قوانین کی الف تک معلوم نہیں ایسے لوگ اوقافی اداروں کے متولی یاسرپرست بن جاتے ہیں ۔ ملک میں پوری طرح سے وقف بورڈ کانظام درہم برہم ہے،اس نظام کو بہتر بنانا ہے تو اسے حکومت اور سیاست سے آزاد کرناہوگا۔یہ ادارہ اب نام کیلئے وقف بورڈ ہے لیکن یہاں صرف اور صرف سیاست ہی چلتی ہےاور یہاں چور و اچکّے ، لوفر و لفنگے ، شرابی، جواڑی و کبابی اور زانی ممبر، صدرمتولی بننے لگے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ ادارہ اب دینی ادارہ نہیں رہا،بلکہ ضرورت کے مطابق اپنی سیاست کو چمکانے کا ادارہ بن گیا۔اگر واقعی وقف بورڈ کو کارآمد بناناہے تو اسے اب ایسے لوگوں سے آزادی دلوانے کی ضرورت ہے۔جس طرح سے سکھوں اور عیسائیوں میں ان کے اوقافی اداروں کی دیکھ ریکھ اور فلاح وبہبودی کیلئے علیحدہ ادارے قائم ہیں،اسی طرح سے مسلمانوں کوبھی چاہیے کہ وہ ان اداروں کو وقف بورڈ کے چنگل سے چھڑالیں اور آزادنہ طو رپر اپنے اداروں کی فلاح وبہبودی کرائیں،ضرورت پڑے تو قانونی ماہرین اور مشیروں کا تعاون لیں،تب جاکر وقف بورڈکو ایک نئی سمت مل سکتی ہے۔ اس وقت صرف کرناٹک کی ہی بات کریں تو یہاں 29000 ایکر زمین پر حکمران، متولی، سیاستدان، عمائدین قبضہ کئے ہوئے ہیں اور اس وقف املاک کو خالی کرانے کیلئے عدالتوں سے احکامات جاری کئے جانے کے باوجود کوئی ٹس سے مس نہیں ہورہاہے کیونکہ یہاں سب ایک حمام میں ننگے اور علی بابا کے چالیس چور بن چکے ہیں ۔ جب تک امت کا حقیقی درد رکھنے والے اس سمت میں پیش رفت کرتے ہوئے اوقافی املاک کو خالی کرانے، اسکی بقاء و ترقی کے لئے کام نہیں کرتے اس وقت تک اوقافی املاک پر سے چور دستبردار نہیں ہونگے ۔جس طرح سے ہم اپنے جان ومال کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اسی طرح سے وقف کے تحفظ کے لئے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وقف اللہ کامال ہے بندوں کا نہیں ۔۔ اور اللہ ہر امانت کا حساب لینے والاہے ۔