لال قلعہ تشدد کیس کے ملزم لکھا سدھانہ کوملی ضمانت

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔دہلی کی روہنی عدالت نے 26 جنوری کے دن لال قلعہ تشدد کے مرکزی ملزم لکھا سدھانہ کی پیشگی ضمانت منظور کرلی ہے۔ ملزم سدھانہ کی طرف سے پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل تحقیقات میں شامل ہوئے ہیں اور تفتیشی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے سدھانہ کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ سدھانا نے مظاہرین کو لال قلعہ میں گھسنے پر آمادہ کیا تھا اور وہ(ملزم) اس کیس کے اہم ساز ش کنندگان میں سے ایک ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ 26 جنوری کو کسان تحریک کے زیر اہتمام نے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ٹریکٹر ریلی نکالی تھی۔ اس دوران اس کی پولیس سے جھڑپ ہوئی۔ وہیں  کسانوں کی ایک بڑی تعداد لال قلعے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ، اورتاریخ میں پہلی بار لال قلعہ کی فصیل کے گنبد پر سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والا مذہبی پرچم لہرایادیا تھا۔ اس تشدد میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔لکھبیر سنگھ عرف لکھا سدھانا پنجاب کا ایک گینگسٹر ہے، جس پر اشتعال انگیز تقریر کرکے لوگوں کو اکسانے کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق جب 26 جنوری کولال قلعہ تشدد کیس کے ملزم دیپ سدھو نے جب 25 جنوری کو سنگھو سرحد پر اشتعال انگیز تقریر کی تھی، تواس وقت لکھا سدھانا بھی وہاں موجود تھا۔