بنگلورو:(انقلاب نیوزبیورو):۔کرناٹک حکومت کی جانب سے پیر کو اسمبلی میں پیش کیے گئے ‘کرناٹک مذہبی ڈھانچے (تحفظ) بل’ پر سیاست شروع ہوگئی ہے۔ جہاں بی جے پی اس بل کو مندروں کے ساتھ تمام مذہبی عمارتوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے وہیں کانگریس کا کہنا ہے کہ بی جے پی عوام کو بیوقوف بنا رہی ہے۔دراصل کرناٹک میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ایک عوامی جگہ پر غیر قانونی طور پر تعمیر کردہ مندر کو مسمار کردیا گیا۔ اس کے بعد بی جے پی قانون لا کر ان کو منہدم ہونے سے بچانا چاہتی ہے۔ واضح ہو کہ 2009 میں سپریم کورٹ نے عوامی مقامات پر تعمیر کردہ مندروں اور دیگر مذہبی عمارتوں کو مسمار کرنے اور منتقل کرنے سے متعلق ایک حکم جاری کیا تھا۔کرناٹک میں کانگریس لیڈر این اے حارث نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے لوگ پہلے مندروں کو مسمار کرتے ہیں اور بعد میں کہتے ہیں کہ ہم ان کی حفاظت کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب صرف ووٹ بینک کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بل پر بحث ہونی چاہیے، اسے ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا۔کرناٹک کے ریونیو وزیر آر اشوک نے کہا کہ بل مذہبی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ بل مندروں کے ساتھ ساتھ تمام مذہبی ڈھانچے کی حفاظت کرے گا۔دوسری جانب بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی کا کہنا ہے کہ ہم کرناٹک حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اگر یہ بل پہلے پیش کیا جاتا تو ہم کچھ مسائل سے بچ جاتے۔ کانگریس اس مسئلہ پر ڈرامہ کر رہی ہے۔
