ممبئی:۔شیو سیناکے رہنما سنجے راوت نے بدھ کے روز مغربی بنگال بی جے پی کے نومنتخب صدر مجمدار کے ان کے مغربی بنگال میں طالبان کی حکومت کے بیان پر تنقید کی۔ انہوں نے کہاہے کہ جمہوریت میں ایسی زبان کا استعمال سیاسی بیانات کی سطح کو کم کرتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہاہے کہ بی جے پی کو یقین ہے کہ ہر اپوزیشن والی ریاست میں طالبان کا راج ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے یا اپوزیشن پارٹی کی حکومت ہے ، بی جے پی کا خیال ہے کہ وہاں طالبان کا راج ہے۔ طالبانی راج کاکیامطلب ہے؟ ایسی زبان جمہوریت میں کسی کو مناسب نہیں ہوتی۔ ممتا بنرجی تو کیا بی جے پی مغربی بنگال کے لوگوں کوطالبان کہہ رہی ہے؟ شیو سینا کے رہنما نے بی جے پی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر مرکزی حکومت پر بھی تنقید کی جس نے بھارت میں جمہوری طور پر منتخب ریاستی حکومتوں کا طالبان سے موازنہ کیا۔ انہوں نے کہاہے کہ ایک مرکزی وزیر بھی مہاراشٹر میں ہماری حکومت کا طالبان سے موازنہ کر رہا تھا۔ مغربی بنگال کے ارکان پارلیمنٹ وہاں کی منتخب حکومت کوطالبان کہہ رہے ہیں۔ مرکزی حکومت ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ کیا اس قسم کا رویہ قابل قبول ہے؟ مرکز اور ریاست کے درمیان محاذآرائی ہے،اگر کوئی ریاست مرکز کے خیالات سے متفق نہیں ہے تو کیا ایسی زبان استعمال کی جا سکتی ہے؟
