بھدراوتی: ۔یہاں پر ہونے جارہے میونسپل کونسل انتخابات کیلئے جہاں پچھلے کئی مہینو ں سے اتحاد واتفاق کی باتیں ہورہی تھی وہ باتیں بکھر کر تار تار ہونے لگی ہیں ۔ اب یہاں اتحاد سے زیادہ مفاد کے فارمولے پر الیکشن ہورہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر وارڈمیں 6مسلمان 1 غیر مسلم اور 4 مسلمان 2 غیر مسلم کے فارمولے پر الیکشن ہورہا ہے، جس سے آسانی کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے یہاں پر مسلمانوں کی شکست یقینی ہے۔ کل تک جو لوگ مسلمانوں کے مسائل سے ناواقف تھے اورجن لوگوں نے خدمت خلق کو انجام دیا ہے وہ بھی اب اپنی خدمات کو سیاسی مدعا بناکر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دال دانے بانٹنا ، رمضان کٹ ، افطار کٹ بانٹنا ، میت اٹھانا ، میت دفنانا، جوشیلی تقریریں کرنااور اپنے سیاسی آقائوں کو خوش کرنا یہ اصل مدعے نہیں ہیں نہ ہی اپنے سیاسی آقائو ں کو خوش کرنے کیلئے جئے شری رام کے نعرے پکارنا، ضرورت پڑھنے پر ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں کودنا یہ سیاست نہیں ہے بلکہ اصل سیاست وقیادت تب ہی مضبوط ہوگی جب عوام کے اصل مسائل کو لیکر دواندیشی کے ساتھ کام کیا جائے، لیکن بھدراوتی کے جو حالات دیکھے جارہے ہیں وہ بالکل بھی علیحدہ نہیں ہیں۔ یہاں کے سینئرلوگ خود کہہ رہے ہیں کہ ہمارے درمیان کئی لوگ خود جیتنے سے زیادہ دوسروں کو ہرانے کی جدوجہد کررہے ہیں اوریہ شکست دوسروں کیلئے نہیں بلکہ خود اپنوں کیلئے طئے کی جارہی ہے۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ ہمیں اس سیکولر ملک میں رہنا ہے اس لئے مسلمانوں کو سیاسی سطح پر تمام کو لیکر جانے والے لوگوں کا انتخاب کرنے کی ضرورت ہے۔ جذباتی مدعوں ، ہندومسلم معاملات اور ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیاں کرنے کے بجائے بھدراوتی شہر کے مسائل پر کام کرنے والے لوگوں کا انتخاب کیا جائے۔
