میسور:۔ مرکزی حکومت کی جاری کردہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی سماجی اور منصفانہ نہیںہے۔ یہ پالیسی آئینی امیدوں کے خلاف ہے اوراس پالیسی کے ذریعہ امبیڈکر کے دیکھے گئے خواب کو ختم کردیا ہے۔ یہ الزام سابق وزیر ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا نے کیاہے۔ انہوں نے یہاں کے مانساگنگوتری بی ایم شری ہال میں میسور یونیورسٹی ریسرچ اسوسیشن ، دلت اسٹوڈینٹ یونین، پچھڑے طبقات کے طالب العلم یونین، انڈین اسٹوڈینٹ اسوسیشن کے اشتراک سے ” قومی تعلیمی پالیسی2020″ پر ایک سیمینار کاافتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ سماجی انصاف، آئینی امیدوں کے ماتحت تمام کوایکساں تعلیم فراہم کرنا ہی ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا خواب تھا۔لیکن نئی قومی تعلیمی پالیسی اسکے برخلاف ہے۔ یہ پالیسی صرف پیسے والوں کیلئے ہے۔ اس پالیسی سے صرف امیر اور طاقتور تعلیمی اداروں کی ترقی کا ضامن ہےبجائے اسکے غریبوں کیلئے کچھ نہیں۔ انہوں نے مزید اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل رادھا کرشنن اورکوٹھاری کمیشن کی رہنمائی میںمتعدد تجربہ کاروں کی نگرانی میں تعلیمی پالیسی کی تشکیل دی گئی تھی۔ لیکن نریندورمودی نے حکومت کے سکریٹری جو سابق آئی اے ایس آفیسر ہیں انکی قیادت میں کمیٹی کی تشکیل دیتے ہوئے انہیں ایک اسسٹنٹ سکریٹری کو منتخب کرتے ہوئے محض 6 ماہ میں رپورٹ تیار کی گئی ہے، لیکن انہیں بعد میں لگاکہ یہ مناسب نہیں ہے تو کستوری رنگن کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئےانتہائی جلدبازی میں بحث میں لائے بغیر ہی رپورٹ پیش کردی گئی ہے۔ لوک سبھا میں چرچہ کیلئے لائے بغیر من مانے طور پر تعلیمی پالیسی جاری کی گئی ہے۔ اس تعلیمی پالیسی سے ماہرین تعلیم اور تعلیمی شعبہ تمام کو ٹھیس پہنچاہے ۔ ایک طرح سے اس پالیسی کے ذریعہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ مستقبل میں انہیں روزگار کے مسائل بھی درپیش ہوسکتے ہیں۔ اس اجلاس میں ماہرین تعلیم شریپاد بھٹ، اکا آئی اے ایس اکاڈمی ڈائریکٹر ڈاکٹر شیوکمار، اے پی ایم سی سابق نائب صدر جوریا، ریسرچ اسوسیشن کے صدر مہیش سولسے، وغیرہ موجودتھے۔
