بنگلور:۔ کورونا وبا کی وجہ سے تعطل کا شکار دوپہر کے کھانے کی اسکیم دسہرہ کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ شروع ہو سکتی ہے،جس سے تقریباً 56 لاکھ بچوں کو راحت ملے گی۔ محکمہ پبلک ایجوکیشن (ڈی پی آئی) نے ڈپٹی ڈائریکٹرز سے اسکیم کو دوبارہ شروع کرنے کے اقدامات پر تجاویز طلب کی ہیں۔ کھانے کی تقسیم کی تیاریوں کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔کرناٹک اسٹیٹ چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کے چیئرمین فادر انتھونی سیبسٹین کے ساتھ سابق وزیرپرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن ایس۔ سریش کمار نے ڈی پی آئی کے کمشنر اور وزیراعلیٰ بسوراج بومائی کو بھی ایک خط لکھا ہے جس میں بچوں کے مفاد میں اس اسکیم کو دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی سی ناگیش نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ دوپہر کے وقت طلباء کو پکا ہوا کھانا پیش کرکے مڈ ڈے میل اسکیم دوبارہ شروع کی جانی ہے۔ فی الحال طلباء کو پکا ہوا کھانا کی جگہ راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں کو نہ صرف خوراک کی ضرورت ہے بلکہ غذائیت اور گرم کھانے کی بھی ضرورت ہے۔ غذائیت سے بھرپور خوراک کی عدم موجودگی میں بچوں کا جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہو گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں کورونا وائرس کے انفیکشن کا خطرہ ہے۔ دودھ اور انڈے دوپہر کے کھانے میں شامل ہونے چاہیے۔
