حکومت کی جانب سے جاری کردہ منفردمہم ” ڈپٹی کمشنر کے قدم دیہاتوں کی طرف” پروگرام کاآغاز

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ: گاجنور کی سرکاری ہائی اسکول میں توقع کے مطابق نتائج نہیں دکھائی دئے ہیں یہاں کے میر معلم سمیت تما م اساتذہ کو نتائج میں بہتری لانے کیلئے ضروری متبادل اقدامات اٹھانے ہونگے۔اس بات کی ہدایت ڈپٹی کمشنر کے بی شیوکمار نے دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے آج حکومت کی منفرد مہم ” ڈپٹی کمشنر کے قدم دیہاتوں کی طرف” پروگرام جو کہ کوویڈ وباء کی وجہ سے روک دیا گیا تھا اس کودوبارہ شروع کرتے ہوئے گاجنور دیہات کا دورہ کیا۔ اس دوران ڈپٹی کمشنر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیکھنے میں کمزور بچوں کو ہوشیا بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اسکول کے تمام اساتذہ کو اپنی مہارت کاا ستعمال کریں ۔ اسطرح ہمیں توقع کے مطابق نتائج مل سکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اس دوران اسکول کا جائزہ لیا، نصابی و غیر نصابی وسائل سمیت اناج کے کمرے کی جانچ کی۔ اسی کے ساتھ والدین سے گذارش کی ہے کہ وہ بچوں کی تعلیمی صلاحیتوں کو ابھارنے کیلئے اساتذہ کا بھرپور تعاون کریں ، ساتھ ہی اپنے بچوں کو منشیات کا شکار ہونے سے روکیں اوران بچوں کی کڑی نگرانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑھنےپر پولیس محکمہ کو مطلع کریں اور وقت رہتے ان پر پابندی لگائیں ، معلومات دینے والوں کے نام پوشیدہ رکھے جائینگے ۔ مزید کہا کہ گرام پنچایت کے حدود میں شامل تمام دیہاتوں کو شفاف پانی کی رسائی پر غوروفکر کیا جائیگا۔ موجودہ پانی کے یونٹ سے فلٹر نصب کرنے اور شفاف پانی منصوبے کے تحت دیہاتوں میں تنصیب کیلئے متعلقہ محکموں سے تبادلہ خیال کرنے کی یقین دہانی کی ۔ اس دوران دیہاتوں نے ڈپٹی کمشنر سے مقامی باشندوں کو حق پتر کی فراہمی، شفاف پانی کے یونٹ کو فلٹرنصب کرنے، علیحدہ ناڈا کچیری کے قیام، راشن کارڈ کی تقسیم، ہوننا پورا گرام روڈ کی مرمت، پی یو کالج شروع کرنے ، مختلف طرح کی پنشن اسکیموں کو مستحقین تک پہنچانے جیسے کئی سارے مطالبات رکھے جسے قبول کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرنےدیہاتیوں کے مسائل کو حل کرنے کا یقین دلایا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے یہاں کے ریوینو اور متعدد محکموں کے افسران سے ملاقات کی، اس دوران پرائمری اورہائی اسکول، آنگن واڑی، پرائمری ہیلتھ سنٹر، اگریکلچر کوآپریٹیو سوسائٹی، ہاسٹل، جیسے اہم مقامات کا دورہ کیا اور وہاںکا جائزہ لیا۔اس موقع پر تحصیلدار ڈاکٹر این جے ناگراج، ایچ بی گنیش، گرام پنچایت صدر جئے اما، نائب صدرکوٹرما، سمیت متعدد محکموں کے ضلعی سطح کے افسران ، مقامی اداروں کے منتخب شدہ نمائندے وغیرہ موجودتھے۔