بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام ’’ایک ملاقات مبین منور کے ساتھ‘‘ کا کامیاب انعقاد

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام ’’ایک ملاقات مبین منور کے ساتھ‘‘ کا انعقاد آن لائن کے ذریعے انجام دیاگیا۔ مولانا زاہد حسن کی تلاوتِ آیاتِ ربانی سے نشست کا آغاز ہوا اورمبین منور ، سابق چیرمین ، کرناٹک اردو اکادمی نے حمدیہ کلام کے بعد نعتِ نبیؐ پیش کیا۔سید عرفان اللہ نے مہمانِ خصوصی و دیگر حاضرین و آن لائن ناظرین کا استقبال پیش کیا۔مبین منور نے اپنی گفتگو میں اپنی والدہ اور ماموکا بالخصوص ذکر کیا ۔ دورانِ گفتگو سابق چیرمین کرناٹک اردو اکادمی نے اپنے ابتدائی دور کو یاد کیا کہ کیسے ایک طرحی مصرعہ پر مبین منور کو ان کی والدہ نے صحیح مصرعہ پیش کرنے کی ترغیب دلائی ۔ آپ نے اپنے استادوں کو بھی یاد کیا اور کرناٹک اردو اکادمی کے سابق صدور کے سوال پر ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کے دور کو یادگار اور قابلِ قدردور میں شمار کیا۔ آپ نے خلیل مامون ، ڈاکٹر فوزیہ چودھری اور ڈاکٹر سید قدیر ناظم سرگروہ کے کاموں کی بھی ستائش کی اور کہا کہ ہر دور میں کام ہوا ہے کسی ایک کے کام کو سب سے بہترین نہیں کہا جا سکتا۔ آپ نے اپنے دور کے تعلق سے بتایا کہ مجھے ہمارے اس وقت کے وزیر ضمیر احمد خان نے یقین دلایا تھا کہ اردو زبان و ادب کی بقاء اور ترویج کیلئے وہ پورا تعاون فرمائینگے اور انہیں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی میں ہم نے کرناٹک اردو اکادمی کے مختصر دور کو مکمل کامیابی کے ساتھ حقدر مقدور پورا کیااور اردو دنیا میں خوب پذیرائی پائی۔ کتابوں کی رسمِ اجراء ہو کہ بچوں کے ثقافتی پروگرام یا پھر خواتین کا کل ہند مشاعرہ ہو کہ تفویضِ انعامات ہر ایک پروگرام کی کامیابی کے چرچے بہت ہوئے۔ آگے فرمایا کہ اس وقت کے انچارج رجسٹرار اکرام باشاہ کا تعاون بلقین قابل ستائس ہے کہ انہوں نے مجھے میرے ہر پروگرام میں میرا  ہو کہ میری کمیٹی کے اراکین کا پورا تعاون کیا اور ہمارے دور کے ہر پروگرام کو بہترین سے بہترین پروگرام قرار دیا۔ اس وقت کے دور میں سید عرفان اللہ نے بھی بہت تعاون کیا میرے ساتھ ہر پروگرام میں شریک رہتے اور ریاست کے ہر کونے میں جہاں جہاں میں اکادمی کے پروگراموں میں شریک ہوتا میرے ساتھ رہتے۔ میں اس وقت کی کمیٹی کے اراکین اور میرے دیگر تمام ساتھیوں کا اور بالخصوص ادب نوازخواتین و حضرات، ہمارے شعراء برادری اور ادیبوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے پورا پورا تعاون کیا اورمیرے ہر فیصلہ کو شرفِ قبولیت بخشی۔اپنی بات مکمل کرتے ہوئے فرمایا کہ جو بھی کرنا تھا ہم نے کر ڈالا،دنگ ہر ایک ہو رہا ہو گا۔دورانِ سوالیہ آن لائن ایک ناظرین کے سوال کے اکادمی کی رجسٹرار صرف اعلان ہی کر رہی ہیں مگر کوئی خاص پروگراموں کا انعقاد نہیں ہورہا ہے۔ اس پر مبین منور نے کہا کہ سوال کرنے والے کو علم نہیں کہ رجسٹرار ایک سرکاری افسر ہوتا ہے اور اس کی اپنی ذمہ داریاں ہوتیں ہیں۔ عائشہ فردوس بہت ہی متحرک افسر ہیں اور وہ ان کے اختیارات کے مطابق کام کر رہی ہیں ہمیں بجائے تنقید کرنے کےان کے کاموں کی حوصلہ افزائی کرنی چائیے۔ دوران گفتگو مبین منور سے کئی نعتوں کی فرمائش کی گئی اور عرفان اللہ کی یاد دہانی پر انہوں نے ایک غزل پیش کی اور ناظرین سے خوب داد و تحسین پایا۔ اس ملاقاتی نشست کی نظامت صبا انجم عاشی نے فرمائی ۔ سید عرفان اللہ، سرپرست و بانی، بزمِ امیدِ فردا کے ہدیہ تشکر کے ساتھ پروگرام کے اختتام کا اعلان ہوا۔