مسلم خواتین کے طلاق سے متعلق کیرالا ہائی کورٹ کا سنسنی خیز فیصلہ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز

دہلی :۔ کیرالا ہائی کورٹ نے مسلم خواتین کے حقوق اور طلاق سے متعلق سنسنی خیز فیصلہ سنایا ہے اور یہ واضح کیا کہ مسلم پرسنل لاء کے تحت انہیں عدالتوں کی مداخلت کے بغیر طلاق دینے اور اپنی شادی ختم کرنے کا حق ہے۔ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ نے تقریبا 50 سال قبل سنگل رکنی بنچ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مسلم خواتین شریعت کے قانون کی دفعہ 2 کے تحت تمام (چار) طریقہ کار میں طلاق کے لئے درخواست دائر کرسکتی ہیں۔ڈیویژن بنچ نے کیرالہ ہائی کورٹ کے 1972 کے سنگل بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا کہ مسلم خواتین کو طلاق لینے کے لئے عدلیہ کا سہارا لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔تازہ فیصلے میں ڈیویژن بنچ نے خیال ظاہر کیا کہ قرآن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خواتین اور مردوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔اور تبصرہ کیا کہ کے سی معین بمقابلہ نفیس کے فیصلے سے کیرالہ کی مسلم خواتین میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس معاملے میں پرسنل لا کے تحت خواتین کو طلاق دینے کا حق ختم کردیا گیا تھا ، جسے وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ صحیح فیصلہ نہیں تھا۔