شیموگہ:۔ فیکٹری بند ہونے کے 26 سال بعد فیکٹری کے پورے مزدور طبقے کی بحالی کرناٹک لیبر شعبے کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔یہ الفاظ ودھان پریشد رکن آئینورمنجوناتھ نےکیا ہے۔ انہوں نے آج ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ تنگابھدرا شوگر فیکٹری کئی سالوں سے ٹھیک چل رہی تھی اور پھر کئی وجوہات کی بناءپر بند ہوگئی۔ وہاں سے کارکنوں کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،معاوضے کیلئے عدالتوںکا چکر لگاناپڑا، کئی وجوہات کی بنا پر عدالت سے انصاف ملنے میں تاخیر ہوئی۔کئی سالوں کی جدوجہد کے نتیجے میں تین فریقی مشترکہ اجلاس ہوا اور اتفاق رائے پر دستخط ہوئے۔ اس کے مطابق، کارکنوں کو 26 ماہ کی تنخواہ، 6 ماہ کی گریچوٹی اور 3 ماہ کے بونس کے علاوہ بینک کی سادہ سود کی شرح شامل کرکے تمام کارکنوں کو معاوضہ دینے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ مزدور اس معاہدے سے واقعی خوش ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک معجزہ ہے کہ ایک فیکٹری کو بند کرنے کے 26 سال بعد، مزدوروں کو اپنی ضرورت کے مطابق رقم مل رہی ہے۔یہ فیصلہ تنگابھدرا شوگر فیکٹری بورڈ، یونین لیڈروں اور مزدور عہدیداروں نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں نے واقعی ایک اچھافیصلہ کیا ہے میں اسکا کا خیر مقدم کرتاہوں ۔مذکورہ فیصلے کے مطابق 12 کارکنوں کو پہلے ہی چیک جاری کیے جا چکے ہیں۔ باقی تمام کارکنوں کو 31 اکتوبر کو سینٹ تھامس کمیونٹی ہال میں محکمہ لیبر کے اہلکاروں اور لیبر یونین کے رہنماؤں کی موجودگی میں معاوضے کا چیک دیا جائے گا۔ اگر مزدوروں کی موت ہو چکی ہے تو ان کے لواحقین کو ضروری دستاویزات کے ساتھ سب سے پہلے معاوضہ حاصل کرنےحاضر ہونے کی گذارش کی ہے۔کچھ کارکن ہمارے فیصلے سے متفق نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ عدالت سے لڑتے رہیں گے۔ انہیں کارکنوں نے پہلےانتظامیہ کمیٹی سے بات کرتے ہوئے 7.50 کروڑروپے کا معاوضہ حاصل کیا تھا اور موجودہ معاہدے پر دستخط کر دیئےاور اب دوبارہ عدالت کی سیڑھیاں چڑھنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ پریس کانفرنس میںمزدور لیڈروں میں نارائن گوڑا،جادھو، بی ایس ناگراج، کیمپے گوڑا، پرکاش، کرشنا اور مالک، منویلن وغیرہ موجودتھے۔
