آدھار کارڈ کے غلط استعمال پر لگ سکتا ہے1 کروڑ کا ہوگا جرمانہ 

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی: ۔حکومت ہند نے اب ہندوستان کی منفرد شناختی اتھارٹی (یوآئی ڈی اے آئی ) کو آدھار ایکٹ کی تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف ایک کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کرنے کا اختیار دیا ہے۔ قانون کے پاس ہونے کے تقریباً دو سال بعد حکومت نے ان قوانین کو نوٹیفائی کیا ہے۔ اس کے تحت یوآئی ڈی اے آئی آدھارقوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے افسران کی تقرری کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مجرموں پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ 2 نومبر کو حکومت نے یو آئی ڈی اے آئی (جرمانے کا فیصلہ) قانون 2021 کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔اس کے تحت یوآئی ڈی اے آئی ایکٹ یایوآئی ڈی اے آئی کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں شکایت کی جا سکتی ہے۔یوآئی ڈی اے آئی کے ذریعہ مقرر کردہ افسران ایسے معاملات کا فیصلہ کرینگے اور ایسے اداروں پر 1 کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کر سکتے ہیں۔ ٹیلی کام ڈسپیوٹ سیٹلمنٹ اینڈ اپیلیٹ ٹریبونل ان فیصلوں کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔حکومت نے آدھار اور دیگر قوانین (ترمیمی) ایکٹ 2019 لایا تھا تاکہ یوآئی ڈی اے آئی کو کارروائی کرنے کے اختیارات حاصل ہوں۔ موجودہ آدھار ایکٹ کے تحت یوآئی ڈی اے آئی کے پاس آدھار کارڈ کا غلط استعمال کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ سال 2019 میں منظور ہونے والے قانون میں دلیل دی گئی تھی، "پرائیویسی کے تحفظ اور یوآئی ڈی اے آئی کی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے اس میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔” اس کے بعد جرمانے کی فراہمی کے لیے آدھار ایکٹ میں ایک نیا چیپٹر شامل کیا گیا۔2 نومبر کو مطلع کردہ نئے قواعد میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ لینے والے افسر حکومت ہند کے جوائنٹ سکریٹری کے عہدے سے نیچے کا نہیں ہوگا۔ اس کے پاس 10 سال یا اس سے زیادہ کام کا تجربہ ہونا ہوگا۔ اسے قانون کے کسی بھی مضمون میں انتظامی یا تکنیکی جانکاری ہوگی۔ اس کے علاوہ اسے مینجمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی یا کامرس میں کم از کم تین سال کا تجربہ ہونا چاہیے۔