شیموگہ:۔ضلع میں متعدد پولیس افسران ایس پی کے طور پر تعینات ہوئے اور چلے گئے لیکن موجودہ پولیس سربراہ ایس پی کے دورمیں ضلع کا قانونی نظام بالکل درہم برہم ہوچکاہےاور اس جانب ضلع نگران وزیر بھی توجہ دینے سے قاصر ہیں۔ضلع بھر میں خصوصاً شیموگہ شہرمیں چوروں،لوٹیروں اور گانجہ کےمافیا کا راج چل رہاہےاور اس سے ظاہرہورہاہے کہ شیموگہ ضلع میں شائدجنگل راج قانون نافذ ہوگیاہے؟یہ تنقید سماجی کارکن فیروز نے کیاہے۔انہوں نے اپنی پریس ریلیز میں محکمہ پولیس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ضلع بھر میں گانجہ،نشہ آوار چیزیں کی فروخت کھلے عام ہورہی ہے اور قتل کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوتاجارہاہے،لیکن اس تعلق سے نہ محکمہ پولیس نے ان وارداتوں پر لگام کساہے اور نہ ہی ضلع نگران وزیرنے اس جانب توجہ دینے کی ضرورت سمجھی ہے۔ضلع میں ہر نوجوان گانجہ،چرس ،افیم جیسی برائیوں میں ملوث ہوتاجارہاہے اور اس لت سے نوجوان قتل وغارت گری کی جانب سے اپنے قدم بڑھاتے ہوئے جرائم کی دنیا سے جڑرہاہے۔شیموگہ شہرمیں اس طرح کی وارداتوں سے عوام کو خوف کے سائے میں رہنا پڑرہاہے،کیونکہ شہرمیں آئے دن چوری اور قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہورہاہے،لیکن اس جانب ضلع انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی طرح کی سخت کارروائی نہیں کی جارہی ہے اور گانجہ فروشوں پر پولیس کی گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے۔سماجی کارکن فیروز نے مزیدکہاکہ ضلع انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کو اس جانب سے توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ،کیونکہ شہر میں جو امن قائم ہے اسے برقراررکھنے کیلئے پولیس انتظامیہ اور ضلع نگران وزیر کو اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
