بنگلور:۔ریاستی حکومت نے شمالی کرناٹک میں آنے والے ممبئی ۔کرناٹکا حلقہ کو کتور۔ کر نا ٹکا قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ضلع اُترکنڑا سمیت سات اضلاع آتے ہیں ۔ وزیراعلی بسواراج بومئی کی صدارت میں ہوئی کا بینہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ لیا گیا ہے۔کابینہ اجلاس کے بعد اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون و پارلیمانی امور جے سی مادھوسوامی نے بتایا کہ ہم اپنے علاقہ کو آئندہ ممبئی۔کرناٹکا نہیں کہیں گے، بلکہ آئندہ یہ علاقہ کتور۔کرناٹکا کہلایا جائیگا جس کیلئےعنقریب نوٹیفکیشن جاری کی جائیگی۔ واضح رہے کہ کتور۔کرناٹک حلقہ میں 7 اضلاع اتر کنڑا ، بیلگاوی ، و جے پور، گدگ، دھارواڑ ، باگل کوٹ اور ہاویری اضلاع آتے ہیں۔اس سے قبل وزیراعلیٰ بومائی نے کنڑا راجیہ اُتسوا کے موقع پر ہی اعلان کیا تھا کہ اگلے کابینہ اجلاس میں ممبئی۔کرناٹکا حلقہ کا نام تبدیل کرکے اُسے کتور۔کرناٹکا حلقہ میں تبدیل کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب سرحدی تنازعات سامنے آتے ہیں تو پرانے ناموں کو جاری رکھنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ انہوں نے کلیان کرناٹکا حلقہ کی ترقی کیلئے آنے والے بجٹ میں تین ہزار کروڑ روپئے جاری کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔بتاتے چلیں کہ اس سے پہلے حیدرآباد۔کرناٹکا کا نام بھی تبدیل کیا جاچکا ہے جس کا نیا نام اب کلیان کرناٹکا ہے۔ کابینہ اجلاس کے بعد اس کی تفصیلات دیتے ہوئے وزیر قانون و پارلیمانی امور جے سی مادھوسوامی نے بتایا کہ ریاستی کا بینہ نے کرناٹک میں نئی ریت پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ لیا جس کے مطابق اب گرام پنچایت سطح پر ندی کی ریت فی ٹن 700 روپے میں فروخت کی جائیگی اس کیلئے حکومت کی طرف سے اجازت عام ہوگی ۔ ریت سے جو بھی آمدنی ہوگی اس کا 25 فیصد حصہ گرام پنچایت کو دیا جائیگا۔انہوں نے بتایا کہ ریت کی نکاسی کیلئے مشینوں کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کانکنی کی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے اجازت پر بھی کابینہ اجلاس میں تفصیل سے بحث کی گئی اور آنے والی میٹنگوں میں اس پر فیصلہ لینا طے پایا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے بنکروں کیلئے نئے پیکیج کے اعلان پر اتفاق کیا ہے ۔ اس پیکیج کیلئے 376 کروڑ روپے کی رقم مخصوص کی گئی ہے ۔ ٹینڈرنگ کے نظام میں شفافیت لانے کیلئے کابینہ نے طے کیا ہے کہ ٹینڈر 50لاکھ روپے کی لاگت سے زیادہ کا ہوگا۔کابینہ نے کنڈی ڈیم کی تیاری کیلئے 500 کروڑ روپے کی رقم منظور کی ہے ۔ دکشن کنڑا میں یہ ڈیم یم تعمیر کیا جائیگا۔ سر گپا ویداوتی برڈج کی تعمیر کو بھی منظوری دے دی گئی ہے جس پر 30 کروڑ روپے کا خرچ آئیگا۔ کرنا ٹکا روڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو کابینہ نے 825 کروڑ روپیوں کی رقم جاری کرنے کیلئے بھی منظوری دی ہے کا بینہ نے سواتندا آشرم کیلئے اگرا میں زمین منظور کی ہے۔ملٹی اسٹوریڈ ہاؤزنگ اسکیم کے تحت مکانات کی تعمیر کیلئے کابینہ نے راجیو گاندھی ہاؤزنگ کارپوریشن کیلئے 69 کروڑ روپے کی رقم منظور کی ہے ۔ رواں سال 80 لاکھ مکانات کی تعمیر کیلئے حکومت نے نشانہ طے کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے چکبالاپور اور کولار کیلئے الگ الگ ملک یونین کے قیام کو منظوری دے دی ہے ۔ بیلگاوی میں لیجس لیچر اجلاس طلب کر نے کے بارے میں ایک سوال پر مادھوسوامی نے کہا کہ کا بینہ میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی لیکن فیصلہ نہیں لیا گیا۔ اگلے اجلاس میں لیجس لیچر اجلاس کے اہتمام اور تاریخ کے بارے میں فیصلہ لیا جائیگا۔ اداکار پنیت راج کمار کو بعداز مرگ پد ما ایوارڈ دینے کی سفارش کے بارے میں مادھوسوامی نے کہا کہ یہ معاملہ کا بینہ میں زیر بحث نہیں آیا۔
