ڈی کے شیوکمارکے گھر پر چھاپوں سے کانگریسی ناراض ہوکر احتجاج کیلئے اُترے تھے،تو سلمان خورشید کے گھر کو آگ لگنے پر خاموش کیوں؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔پچھلے دنوں کرناٹکا کانگریس پارٹی کے صدر ڈی کے شیوکمارکے گھروں پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور آئی ٹی کے چھاپے ہوئے تھے،ان چھاپوں کو انجام دینے پرکرناٹکا کے مختلف حلقوں میں کانگریس پارٹی کے مسلم لیڈروں نے زبردست احتجاج کیاتھا،ہر طرف مسلم لیڈروں کی جانب سے احتجاج کی نمائندگی ہورہی تھی،کانگریس پارٹی کے کسی بھی لیڈرپر ہونے والے حملے کی شدید مذمت اور پارٹی کے لیڈروں کی گُل پوشی،تاچ پوشی اور جینتی کیلئے پیش پیش رہنے والے مسلم لیڈروں سے سوال کیاجارہاہے کہ سلمان خورشیدکے گھرپر جو حملہ ہواتھا،اُس حملے کے خلاف مسلم لیڈران سڑکوں پر کیوں نہیں اُترے؟۔کانگریس پارٹی کے مسلم لیڈروں نے آخرکیوں نہیںسلمان خورشیدکی تائیدمیں آواز بلندنہیں کی،کیا سلمان خورشید مسلمان نہیں ہیں یاپھر کانگریس پارٹی کے لیڈرنہیں ہیں؟سوال یہ پوچھاجارہاہے کہ جب کانگریس پارٹی کے لیڈران خود کانگریس پارٹی کے لیڈروں پر ہونے والے حملوں کے خلاف آواز نہیں اٹھارہے ہیں تو دوسرے اقلیتوں،پسماندہ طبقات اور عام لوگوں کے تحفظ کیلئے کیا کرینگے؟دراصل سلما ن خورشید پر ہونے والے حملوں پر خاموشی کے تعلق سے لوگوں میں یہ بھی کہاجارہاہے کہ کانگریس پارٹی کے مسلم لیڈروں کو مسلم قیادت سے کوئی لینا دینانہیں ہے،بلکہ اپنی پارٹی کے لیڈروں کی خوشنودی حاصل کرنا اور خاموشی اختیارکرتے ہوئے اُن کی چمچہ گری کرنا ضروری ہوگیاہے۔کرناٹک کے کسی بھی شہر سے سلمان خورشیدپر ہونے والے حملوں کی مذمت میں کانگریس پارٹی نے منہ تک نہیں کھولاہے سوائے راہل گاندھی کے کسی نے بھی اس معاملے کواہمیت نہیں دی ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ پارٹی کے دوسرے لیڈروں کی بات چھوڑئیے،سی ایم ابراہیم،ضمیر احمد،رحیم خان،یو ٹی قادر،سلیم احمد جیسے دوسرے لیڈروں نے بھی خاموشی برقراررکھی ہوئی ہے۔