کُتا بھی وفادار ہوتاہے

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔شیموگہ۔9986437327
اس وقت بھارت کے مختلف علاقوں میں جشن اردویا یوم اردو کااہتمام کیاجارہاہے،یوم اردو علامہ اقبال کی یوم پیدائش کی مناسبت سے منایا جاتاہے اور ا س دن اکثر یہ اعادہ کیاجاتاہے کہ ہم اردو زبان سے محبت کرینگے اور اردو زبان کی اہمیت کو لوگوں میں عام کرینگے اور اردو کی بقاء وتحفظ کیلئے پابند رہیں گے،اس پرگفتگو کرنے کیلئے بڑے بڑے مقررین ،اردودان اور مفکرین کو بلایاجاتاہے،لیکن اکثر یہ دیکھاگیاہے کہ اردودان طبقہ یا اردو پر گفتگو کرنے والے مقررین تو ہوتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا بالکل بھی یقین نہیں ہے کہ اردو زبان سےکچھ بھلا ہوپائیگا۔بیشتر اردودان جن میں اردو پڑھانے والے بھی ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اردو پڑھنےسے کوئی فائدہ نہیں ہے،بلکہ ارد وپڑھنے سے بے روزگاری بڑھتی ہے،اردو پڑھنے سے سماج میں مقام کم ہوتاہے،سماج میں مشکلات کاسامنا کرناپڑتاہے اور لوگ انہیں گری ہوئی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر لوگ اردو کو روزگار سے کیوں جوڑتےہیں۔جب مسلمان قرآن پڑھتے ہیں تو عربی سیکھتے ہیں اور قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں۔جبکہ عربی سیکھنے سے نہ ان کیلئے روزگارکے مواقع ہیں نہ ہی یہ طئے ہے کہ ان کے عربی سیکھنے اور قرآن پڑھنے سے وہ جنتی بن جائینگے،پھر بھی بطور مسلمان وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن پڑھنا فرض ہے اور قرآن کو عربی میں ہی پڑھنا افضل ہے،اس لئے وہ قرآن پڑھتے ہیں اور عربی سیکھتے ہیں۔ایک بچہ اپنی ماں سے محبت کرتاہے ،وہ اپنی محبت کو بے لوث اور بغیر کسی صلے کے انجام دیتاہے،کیونکہ ماں کی ممتا اس سے جڑی ہوئی ہوتی ہے اور وہ بغیر کسی معاوضہ کے اپنی ماں سے محبت کرتاہے،کیونکہ وہی ماں اسے جنم دی ہوتی ہے۔جب ہمارے معاشرے میں کنڑا،تلگو،تمل،ہندی،سنسکرت،مراٹھی جیسی مادری زبانوں کو پڑھنے کے بعد بھی نوکریاں ملنامشکل ہے،باوجود اس کے اُن زبانوں اور اقوام کے لوگ اپنی مادری زبان کو چاہتے ہیں،بولتے ہیں اور اُسی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تواردو کے معاملے میں ایساحوالہ کیوں؟۔ویسے دیکھاجائے تو انگریزی پڑھے لکھے ہوئے لوگ بھی آج کروڑوں کی تعدادمیں بے روزگار ہیں نا،جب انگریزی پڑھ کر بھی روزگارنہیں مل رہاہے تو اردو کو بدنام کیوں جارہاہے؟۔جس طرح کی سہولتیں دیگر زبانوں کیلئے ہیں،اُسی طرح کی سہولتیں اردو زبان کیلئے بھی ہیں۔نیٹ کاامتحان ہویا یو پی ایس سی کا امتحان یا پھر کے پی ایس سی کاامتحان کی بات کی جائے تو ان امتحانات کو بھی اردو میں لکھاجاسکتاہے،یہاں تک ریلوے کاامتحان بھی اردومیں لکھ سکتے ہیںتو پھر اس میں دقت کی کیا بات ہے؟۔دراصل روزگار حاصل کرنے کیلئے مادری زبان روکاٹ نہیں ہے بلکہ صلاحیتوں کانہ ہونا روکاٹ ہے۔مادری زبان تو ہماری پہچان ،ہماری شناخت،وجوداور تہذیب وتمدن کا گہوارہ ہوتی ہے تو کیوں اس زبان کو روزگار سے جوڑکر دیکھاجاتاہے اور جواردو کے معلمین، مدرسین،پروفیسران کہتے ہیں کہ اردو پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے اور وہ خوداپنی زندگیاں بربادکئے ہوئے ہیںتو یہ لوگ واقعی میں ہمت رکھتے ہیں اوردم ہے تو اپنی نوکریوں سے استعفیٰ دیکر دوسرا کوئی کام کردکھائیں تو جانیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ اردو کا کھا کر اردو کے ساتھ دھوکے بازی کرنا اردوکی فطر ت نہیں بلکہ میر صادق کی آل کی فطرت ہے،ورنہ ایک وقت کھانا کھا کُتا بھی وفادار بن جاتاہے۔