از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اکثر وبیشتر موقعوں پرتوہین رسالتﷺکی وارداتیں پیش آتی ہیں،ان وارداتوں کے بعد مسلمان احتجاج کرتے ہیں،قصورواروں کوسزادلانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کئی موقعوں پر احتجاج کے دوران مارپیٹ یا تشددکے واقعات کو بھی بڑھاوادیتے ہیں۔یقیناًمسلمانوں کیلئے حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا مقام بہت بڑاہے اور آپﷺکے بغیر کائنات کے تصورکوہی نہیں ماناجاتا۔نبیﷺکی شان سب سے اعلیٰ واعلیٰ ہے اور وہی محسنِ انسانیت ہیں۔ان کی صفات اور ان کی ذات کا اندازہ خود اب تک مسلمان بھی لگا نہیں پائے ،باوجود اس کے اُن سے عشق بے انتہاء کرتے ہیں اور ان کی تعظیم میں ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیارہیں،لیکن اگر خدانخواستہ توہین کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو اُس کا سر تن سے جداکرنے کیلئے بھی تیار ہوتے تھے۔آئے دن میڈیامیں یاپھر الگ الگ موقعوں پر توہین رسالتﷺکی وارداتیں پیش آرہی ہیں،بہت سے موقعوں پر یہ وارداتیں انجانے میں بھی پیش ہوتی ہیں او رجان بوجھ کر بھی ہورہی ہیں۔دنیاکے بعض مسلم ممالک میں توہین رسالﷺکے قصورواروں کو سزا دینے کا رواج بھی ہے،لیکن بھارت جیسے ملک میں اس کیلئے کوئی مخصوص قانون نہیں ہے،بلکہ کسی بھی مذہب کی توہین کیلئے جو قانون ہے وہی قانون توہین رسالتﷺپر نافذکیاجاتاہے۔حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی شخصیت ،وجود اور آپﷺ کی زندگی کو جو شخص جان لے،پڑھ لے یا پھر سمجھ لے،وہ کبھی بھی توہین کیلئے آمادہ نہیں ہوگا،بلکہ ان کی تعظیم میں اپنے آپ کو نچھاورکردیگا۔مگر ان کی سوانح حیات سے متعارف ہونے کیلئے خود مسلمان ہی نہیں تیارنہیں ہیں۔بہت سے لوگ آپ ﷺکی زندگی سے ناواقف ہیں ۔ دوسری جانب غیر مسلم قلمکار،صحافی،لیڈران یہاں تک کہ مذہبی رہنماء بھی آپﷺکی زندگی سے ناواقف ہیں۔المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے آپﷺکی زندگی کا نقشہ یا زندگی کا تعارف غیر مسلموں میں نہیں کروایاہے،اگر مسلمانوں نے غیر مسلموں کےدرمیان آپﷺکی زندگی کا خاکہ پیش کیاہوتا،آپ ﷺکی تعلیمات عام کئے ہوتے،آپﷺکے بتائے ہوئے راستے پر خود کو چلایاہوتاتو آج غیر مسلمانوں میں توہین رسالتﷺکرنے کی جرت پیدا ہی نہیں ہوتی۔مسلمانوں نے کبھی حضرت محمدﷺکی زندگی کا خاکہ ہی غیر مسلموں کے سامنے پیش کرنے کی تحریک ہی عام نہیں کی ہے تو غیر مسلموں میں آپﷺکی تعظیم کاجذبہ کیسے پیداہوتا؟۔ضرورت تو اس بات کی ہے کہ آپﷺکی تعلیمات اور اسلام کے تعلق سے غیر مسلم خصوصاً قلمکار،صحافی اور سیاستدانوں کو متعارف کرایاجائے ، اگر یہ کام شروع ہوتاہے تو یقیناً غیر مسلم بھی آپﷺکی تعظیم کرنے لگے گیں۔دوسری بات یہ ہے کہ نبی کریمﷺکی طویل زندگی کا خاکہ پیش کرنے کے بجائے ایسے مختصر معلومات کو جوڑاجائے جس سے لوگوں میں یہ بات پیش کی جاسکے گی کہ آخرکیوں نبیﷺمسلمانوں کیلئے جان سے زیادہ پیارے ہیں،آپﷺکی خاطرجان دینے کیلئے بھی تیارہیںا ور جان لینے کیلئے تیارہیں۔جب تک ان معلومات کو عام نہیں کیاجاسکتااُس وقت تک توہین رسالتﷺکے سلسلے کوختم نہیں کیاجاسکتا اورجب تک کہ تعظیم کی بنیادوں کو اجاگر نہیں کیاجاتا۔
