دہلی:۔مرکز ریزرویشن کے لیے ای ڈبلیوایس (معاشی طور پر کمزور طبقات) کے لیے سالانہ آٹھ لاکھ روپے کی حد پر دوبارہ غور کرے گا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ ای ڈبلیوایس کوٹہ کے لیے اس حد پر دوبارہ غور کرے گی اور اس کے لیے چار ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ تب تک NEET آل انڈیا کوٹہ میں کوئی کونسلنگ نہیں ہوگی۔سپریم کورٹ نے چار ہفتے کا وقت دیتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت 6 جنوری 2022 کو مقرر کی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ 21 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے میڈیکل میں ای ڈبلیوایس کے ریزرویشن پر مرکز پر بڑے سوال اٹھائے تھے۔ سپریم کورٹ نے NEET آل انڈیا کوٹہ میں ای ڈبلیوایس کوٹہ میں ریزرویشن کی سہولت حاصل کرنے کی بنیادی شرط کے بارے میں مرکزی حکومت سے جواب طلب کیاتھاجس سے سالانہ آٹھ لاکھ روپے تک کی آمدنی ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ میں جسٹس دھننجے وائی چندرچوڑ اور جسٹس بی وی ناگارتھناکی بنچ نے حکومت سے کہاہے کہ اس اصول اور شرط کی کوئی بنیاد ہے یا حکومت نے یہ معیار کہیں سے بھی اٹھایا ہے۔ عدالت نے کہاہے کہ آخر کیا اس کی بنیاد پر کوئی سماجی، علاقائی یا کوئی اور سروے یا ڈیٹا ہوگا؟ دیگر پسماندہ طبقات یعنی او بی سی لوگ جو آٹھ لاکھ روپے سالانہ سے کم آمدنی والے گروپ میں ہیں وہ سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ہیں لیکن آئینی اسکیموں میں او بی سی کو سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ نہیں سمجھا جاتا ہے۔یہ وہ پالیسی معاملات ہیں جن میں ہم شامل ہیں۔ آپ یعنی حکومت کو اپنی ذمہ داری کا خیال رکھنا چاہیے۔
