بنگلورو:۔معروف میڈیکل کالم نگار،ماہر تعلیم،تاریخداں ڈاکٹر سی وائی یس خان کو آج ان کے خیر خواہوں،دوست واحباب اور دیگر نے جیم اسکول میں وزڈم ہائٹس فائونڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ تعزیتی اجلاس میں زبردست خراج وقتدت پیش کیا۔سابق وزیر آر روشن بیگ کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں ماہرین و دانشوروں کی کثیر تعداد جمع تھی ،جنہوں نے آپ کی پوشیدہ صلاحیتوں اور خوبیوں پر روشنی ڈالی۔کرناٹکا اردو اکادمی کے سابق رجسٹرار خلیل احمد نے کہا کہ مرحوم ڈاکٹر صاحب کو اولیاء کرام سے کافی عقیدت تھی اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اولیاء کرام کی مزارات پر حاضری دیتے تھے۔روزنامہ سالار کے سابق ایڈیٹر کے افتخار احمد شریف نے مرحوم سے اپنے دیرینہ مراسم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے سہل و آسان زبان میں میڈیکل مضامین لکھا کرتے تھے تا کہ عام قاری تک بھی اسے سمجھ سکے۔کرناٹک اردو اکادمی کے چیرمین عزیر اللہ بیگ نے کہا کہ ڈاکٹر سی وائی یس خان کو سیر و تفریح کے شوقین تھے اور حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ اور حیدر علی مے متعلق انہوں نے ریسرچ کا بھی آغاز کیا اور ان کے آثار قدیمہ کے حصول کیلئے وہ لمبے لمبے سفر بھی طے کیا کرتے تھے۔ابتدائی دنوں میں ڈاکٹر صاحب قلمکار بننے کے پہلے اسکیچ اور کارٹون بنایا کرتے تھے اور تب ان کا قلمی نام یس۔خان ہوا کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سی وائی یس خان نے ایک مکمل انسان ہونے کا فرض نبھایا ہے اور وہ ایسے فراخ دل انسان تھے کہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اپنے دوستوں کیلئے وقف رکھا کرتے تھے ۔ زردو اکادمی کے سابق چیرمین پروفیسر م ن سعید نے کہا کہ مرحوم کی شخصیت میں ایک عجیب کشش تھی وہ کامیاب ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے مصنف بھی تھے،ان کی تحریروں سے ٹیپو شناسائی میں مدد ملتی ہے آپ کی شخصیت ہمیشہ زندہ رہے گی۔مرحوم کے فرزند سیف اللہ نے تیقن دیا کہ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سی وائی یس خان نے ایک باپ ہونے کا پورا فرض نبھایا،اس موقع پر کے یم ڈی سی کے سابق چیرمین محمد ابراہیم،معروف قلمکار فیاض قریشی،محمد علی،صحافی عابد اسلم اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔صدارتی خطاب کرتے ہوئے آر روشن بیگ نے کہا کہ چند دن قبل ہی ڈاکٹر خان سے ان کی ملاقات ہوئی تھی تب انہوں نے ان کی ہمت افزائی کی اور ان کا حوصلہ بلند کیا تھا،ان کے مراسم دیرینہ رہے اور ہمیشہ وہ خوش اسلوبی سے ملاقات کیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ کالج دنوں سے ان کے روابط تھے جب انہوں نے جئے محل حلقہ میں تن کے طاقتور لیڈر انجہانی جیوراج آلوا کے خلاف انتخاب میں حصہ لیا تو ڈاکٹر صاحب فکر مند ہوگئے تھے اور ان کی کامیابی کیلئے کافی جدوجہد کی۔اس موقع روش بیگ نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر خان کے مضامین کو یکجا کرے وہ اپنی جانب سے کتاب شائع کریں گے۔جس کے لئے انہوں نے ایک ادارتی ٹیم تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا۔جلسہ کا آغاز مولانا محمد ارشد مفتاحی کی قرآت اور منیر احمد جامی کی نعت سے ہوا۔منیر احمد جامی نے نظامت کی اور ڈاکٹر سی وائی یس خان سے ان کے روبط سے متعلق منظوم خراج عقیدت بھی پیش کیا۔فائونڈیشن کے سکریٹری محمد تنظیم اللہ نے شکریہ اور دعائے مغفرت کے بعد جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
