ہاسن:۔بجرنگ دل کے کارکنوں نےہاسن ضلع کے بیلور میں ایک عیسائی عبادت گاہ میں تبدیلی مذہب کی اطلاع ملنے کے بعد پہنچے۔ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں بجرنگ دل کے ممبران اپنے گلے میں زعفرانی شال پہنے ہوئے ہیں جو عیسائی برادری کے کچھ لوگوں پر چیختے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں چرچ کی کچھ خواتین کو بجرنگ دل کے ارکان سے بحث کرتے بھی دیکھا گیا ہے۔واقعہ کے مطابق بجرنگ دل کے تقریباً 15-20 کارکنوں نے عیسائیوں پر جبری تبدیلی مذہب کا الزام لگاتے ہوئے ہاسن کے بیلور شہر کے جیسس پریئر ہال میں ایک دعائیہ میٹنگ میں ہنگامہ کیا۔ کمرے میں 40 سے زیادہ لوگ عیسائی عبادت میں مصروف تھے جس کے ساتھ بجرنگ دل کے کارکنوں میں گرما گرم بحث ہوئی۔بجرنگ دل کے علاقائی کوآرڈینیٹر راگھو سکلیش پور نے کہا کہ جس جگہ میٹنگ ہوئی وہ چرچ نہیں تھا، بلکہ ”تبدیلی کا مرکز” تھا۔ انہوں نے کہا کہ چرچ کے منتظمین مختلف ذرائع سے لوگوں کو عیسائیت اختیار کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے ایک کارکن کو اتوار کی چرچ میٹنگ میں مدعو کیا گیا تھا۔ جب اس نے اندر موجود لوگوں کو ہندو دیوتاؤں کی توہین کرتے ہوئے سنا تو اس نے دوسرے ممبران کو اطلاع دی جس کے بعد بجرنگ دل کے کارکن پوچھ گچھ کے لیے موقع پر پہنچ گئے۔ساتھ ہی چرچ ہال کے انچارج سریش پال نے بجرنگ دل کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعہ سے دکھی اور مایوس ہیں۔ اس نے کہا ”ہم اندر عیسائی عبادت میں مشغول تھے ، اور کچھ نہیں۔ کیا وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم لوگوں کو عیسائی بنا رہے تھے؟”پال نے کہا کہ انہیں اپنی ذاتی املاک پر عسیائی عبادت ادا کرنے کے تمام حقوق حاصل ہیں جیسا کہ آئین میں مذہب کی آزادی فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجرنگ دل کے کارکنوں کی حکمت عملی تھی کہ وہ اپنی تنظیم کے کسی کو چرچ میں شرکت کے لیے بھیج کر امن کو خراب کریں اور بعد میں تبدیلی کا الزام لگا کر ہنگامہ کھڑا کریں۔بیلور پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ بجرنگ دل اور عیسائی برادری کے ارکان کے درمیان زبانی تصادم ہوا۔ جب پولس وہاں پہنچی تو دونوں (بجرنگ دل اور برادری کے لوگ) آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ پولیس موقع پر پہنچی اور انہیں ہنگامہ نہ کرنے کی تنبیہ کی اور انہیں بھگا دیا۔پولیس افسر نے کہا کہ بجرنگ دل یا عیسائی برادری کے ارکان کی طرف سے کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔ کرسچن پریم ہال کے انچارج پال نے کہا کہ اس نے پولیس میں شکایت درج نہیں کروائی کیونکہ تنظیم کے کسی نے فون پر معافی مانگی تھی۔رپورٹ کے مطابق بجرنگ دل کے علاقائی کوآرڈینیٹر راگھو سکلیش پورہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے اگلے ہفتے دوبارہ عیسائی عبادت کی اجازت دی تو وہ دوبارہ وہاں پہنچ جائیں گے۔ اس کے بعد پولیس نے عیسائیوں سے کہا ہے کہ اگر وہ دائیں بازو کی تنظیموں کے غصے سے بچنا چاہتے ہیں تو وہ دعائیہ اجتماعات کا اہتمام نہ کریں۔بیلگاوی پولیس نے چرچ جانے والے عیسائیوں کے لیے ‘دوستانہ وارننگ’ جاری کی ہے کہ وہ دعائیہ اجتماعات کے انعقاد سے گریز کریں۔ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ ان پر دائیں بازو کے ہندوتوا گروپوں کی طرف سے ”حملہ” کیا جا سکتا ہے۔کرناٹک میں تبدیلی مذہب کی اطلاع پر ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے ہنگامہ آرائی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل، بجرنگ دل اور شری رام سینا جیسی ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے اُڈپی، کوڈوگو، بیلگاوی، چکبالا پور، کنکا پورہ اور ارسیکیرے سمیت کئی علاقوں میں تبدیلی کی خبروں پر گرجا گھروں اور عیسائی عبادت گاہوں میں گھس گئے تھے۔ واضح ہو کہ کرناٹک حکومت جلد ہی ریاست میں تبدیلی مذہب مخالف قانون لانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ توقع ہے کہ تبدیلی مذہب مخالف بل دسمبر میں بیلگاوی میں منعقد ہونے والے کرناٹک اسمبلی کے آئندہ سرمائی اجلاس میں پیش کیا جائیگا۔
