ایم ایس پی اور دیگر امور پر حکومت نے5/ کسانوں کے مانگے نام ; راکیش ٹکیت نے کہا، مرکزی سرکار توڑ پھوڑ کی سیاست کرر ہی ہے

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ مرکزی حکومت نے یونائیٹڈ کسان مورچہ سے پانچ لوگوں کے نام مانگے ہیں تاکہ ایم ایس پی اور دیگر مسائل پر بات چیت کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے۔اس کی جانکاری کسان لیڈر درشن پال نے منگل کو دی۔ انہوں نے کہا کہ کسان تنظیمیں 4 دسمبر کو ہونے والی میٹنگ میں اس معاملہ میں فیصلہ لیں گی۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تین متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے بل منظور کرلئے گئے ہیں۔ کسان گزشتہ ایک سال سے ان زرعی قوانین کی واپسی کیلئے احتجاج کر رہے ہیں۔تاہم بھارتیہ کسان یونین کے رہنما اور ترجمان راکیش ٹکیت حکومت کے اس اقدام سے ناراض ہیں۔ انہوں نے حکومت پر لیڈروں کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا۔ حکومت کی بات چیت کی پہل پر کسان رہنما نے کہا کہ ایک لیڈر کو بلا کر حکومت توڑ پھوڑ کی سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ کسان مورچہ کو مذاکرات کے لیے مدعو کیا جانا چاہیے۔ راجیش ٹکیت نے کہا کہ کوئی بھی کسی کو بھی فون کر سکتا ہے، لیکن اس کا فیصلہ متحدہ کسان مورچہ کرے گا۔ بی کے یو کے ترجمان نے کہا کہ مذاکرات تحریری طور پر ہونے چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ 5 ناموں کے بارے میں پریس کے ذریعہ بیان دے۔ ٹکیت نے کہا کہ 5 ناموں کا معاملہ اس وقت ہوگا جب باضابطہ اس ضمن میں اطلاع دی جائیں گی ۔دوسری طرف کسان لیڈر درشن پال نے کہاکہ آج مرکز نے اس کمیٹی کی تشکیل کے لیے ایس کے ایم سے پانچ نام طلب کئے ہیں، جو فصلوں کے لیے ایم ایس پی کے معاملہ پر غور کرے گی۔ ہم نے ابھی ناموں کا فیصلہ نہیں کیا۔ ہم اس بارے میں 4 دسمبر کو ہونے والی میٹنگ میں فیصلہ کریں گے۔ منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں مورچہ نے واضح کیا کہ زیر التوا مطالبات اور کسانوں کی تحریک کے مستقبل کے لائحہ عمل پر فیصلہ کرنے کے لیے اجلاس بدھ کے بجائے 4 دسمبر کو ہوگا۔