بنگلورو:۔کرناٹک میں آئندہ قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی اور جے ڈی (ایس) کے درمیان اتحادہوسکتاہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی اور جے ڈی (ایس) کے سرپرست ایچ ڈی دیوگوڈا کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد قیاس آرائیاں جاری ہیں۔بی جے پی لیڈروں نے اس میٹنگ کی تصویریں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیں۔کرناٹک قانون ساز کونسل کے 20 لوکل اتھارٹی حلقوں میں 25 سیٹوں کے لیے 10 دسمبر کو دو سالہ انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ موجودہ ارکان کی مدت پوری ہونے کے باعث ان نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں۔بی جے پی کے رہنما اور کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ بی۔ایس یدیورپا کھلے عام ان سیٹوں پر انتخابات میں جے ڈی (ایس) کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں وہ اپنے امیدوار کھڑے نہیں کر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں مودی-دیواگوڑا کی ملاقات ہوئی ہے ۔جے ڈی (ایس) نے صرف چھ سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں، جب کہ بی جے پی اور کانگریس 20-20 پر مقابلہ کر رہی ہیں۔وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد قومی راجدھانی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے گوڑانے کہاہے کہ اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں بی جے پی کو حتمی فیصلہ کرنا ہے جبکہ سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی جے ڈی (ایس) کی جانب سے فیصلہ لیں گے۔گوڑا نے کہاہے کہ یہ بالآخر بی جے پی پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملے پر فیصلہ کرے کیونکہ وہ اقتدار میں ہے۔ کمارسوامی نے اس (تجویز) پر کوئی منفی بات نہیں کی ہے۔ حتمی فیصلہ بی جے پی کے پاس ہے۔انہوں نے کہاہے کہ انہوں نے (وزیراعظم) کہا کہ وہ (کرناٹک کے مرکزی وزیر) پرہلاد جوشی سے اس معاملے پر بات کریں گے۔دہلی میں پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، ہبلی میں چیف منسٹر بسواراج بومئی نے بدھ کو کہا کہ یدی یورپا اور کمارسوامی ممکنہ تصفیہ پرحتمی فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہاہے کہ وزیر اعظم اوردیوگوڑا کے درمیان ملاقات کے دوران بہت سے مسائل پر بات چیت ہوئی ہے، یہ معاملہ مقامی قیادت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہمارے لیڈر یدیورپا اور کمار سوامی اس پر حتمی فیصلہ کریں گے۔کرناٹک لیجسلیچر کے 75 رکنی ایوان بالامیں اکثریت حاصل کرنے کے لیے بی جے پی کے لیے یہ انتخاب انتہائی اہم ہے۔
