دہلی:۔اپنی ہی پارٹی کی حکومت پر مسلسل حملہ کرنے والے ورون گاندھی نے ایک بار پھر سوال اٹھائے ہیں۔ اس بار روزگار کے بہانے ورون گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت اور ریاست کی یوگی حکومت سے سوال پوچھے ہیں۔ ورون گاندھی نے ٹویٹ کر کے لکھا کہ پہلی بات تو کوئی سرکاری نوکری نہیں ہے، پھر بھی کچھ موقع آتا ہے تو پیپر لیک ہو جاتا ہے، امتحان دیتے ہیں تو نتیجہ سالوں تک نہیں آتا، پھر کسی نہ کسی گھوٹالے میں منسوخ ہو جاتا ہے۔ ریلوے گروپ ڈی کے1.25کروڑ نوجوان دو سالوں سے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہی حال فوج میں بھرتی کا ہے۔ ہندوستان کے نوجوان کب تک صبر کریں؟ ورون گاندھی نے کہا کہ دیہی ہندوستان میں اوسط نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بنیادی طور پر سرکاری ملازمتوں تک ہی محدود رہتے ہیں ، چاہے وہ دفاعی شعبہ ہو یا پولیس، ریلوے ہو یا تعلیم۔پہلی بات توکوئی سرکاری نوکری نہیں، پھر بھی کوئی موقع آتا تو پیپر لیک ہو جاتا ہے، امتحان دیتے ہیں تو برسوں نتیجہ نہیں آتا، پھر منسوخ ہو جاتا ہے۔ورون گاندھی معیشت اور بے روزگاری کے معاملے پر حکومت کے انتظام پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ اس دوران انہوں نے مرکزی حکومت کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شعبے میں پہلے کی نسبت کم سرکاری نوکریاں ہیں اس لیے نوجوانوں میں مایوسی کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ صرف گزشتہ دو سالوں میں اتر پردیش میں پیپر لیک ہونے کی وجہ سے 17 امتحانات ملتوی کیے گئے ہیں اور اب تک اس میں ملوث کسی بڑے سنڈیکیٹ کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔
