روزنامہ انقلاب اورمسلم سمرکشنا ویدیکے نے خاتون کی تجہیزوتدفین کا بچوں کے ہاتھوں ہی کروایا انتظام
شیموگہ:۔3/اپریل کو شہرکے پرائیویٹ بس اسٹانڈ میں ایک بزرگ خاتون لاچار و بے سہارا بیٹھی ہوئی تھی،جس کے تعلق سے روزنامہ نے پوچھ تاچھ کی تو خاتو ن نے بتایاکہ اس کی بیٹی نے اسےبس اسٹانڈ میں چھوڑکر کہیں چلی گئی ہے اور وہ کچھ دیر بعد واپس آکر اسےلے جائیگی۔کافی دیر تک جب اس خاتون کو لینے کیلئے کوئی نہیں آیاتو روزنامہ نے پولیس کو مطلع کیا،،جس کے بعد دوڈاپیٹے پولیس تھانے کے انسپکٹر ہریش پٹیل نے اس بزرگ خاتون کو اولڈ ایج ہوم روانہ کیاتھا۔مگر خاتون کے ذریعے کہی گئی کچھ باتوں کو بنیاد بنا کر روزنامہ نے اپنے شرالکوپہ کے نمائندے نویداحمدکے ذریعے تحقیقات کروائی تھی جس کے بعد اس بات کا پتہ لگا کہ یہ خاتون سورب شہرکی ہےاور اس کی بیٹی نے اس کی تیماداری نہ کرنے کاحیلہ بنا کر اسے شیموگہ میں چھوڑ آئی تھی اور اس بزرگ خاتون کے دو بیٹے بھی ہیں جنہوںنے اس کی تیماداری او پرورش کرنے سے انکارکیاتھا،اس سلسلے میں سورب کی مرکزی و سماجی خدمات کیلئے معروف مسلم سمرکشنا ویدیکے کے ذمہ داروں نے اس خاتون کے اہل خانہ کو مسلسل سمجھایا اور انہیں دنیا وآخرت کا حوالہ دیا،بزرگ خاتون کی مجبوری کے تعلق سے انہیں آگاہ کیا،مگر اس بزرگ خاتون کے سنگ دل بچوں میں ذرا برابربھی ہمدردی نہیں آئی۔اُدھر یہ خاتون پچھلے 16 دنوں سے اولڈایچ ہوم میںصبح تا شام دروازہ تکتی رہی اور اپنے بچو ںکے تعلق سے یہاں کے خادمین کو پوچھتی رہیں۔بلآخر آج صبح4 بجے اس خاتون نےآخری سانس لی۔کل رات جاتے ہوئے بھی خاتون نے اپنے پاس موجود دس روپئے بیٹی کو دینے کیلئے وصیت کرگئی۔سورب کی مسلم سمرکشنا ویدیکے کے ذمہ داروں نے کل شام تک بھی خاتون کے بچوں کو اس کی ما ں کوواپس لانے کی نصیحت کی تھی،لیکن ان کی نصیحتیں انسونی کی گئیں۔آج صبح جب خاتون کاانتقال ہواتو دوڈاپیٹے پولیس تھانے کے انسپکٹرنےروزنامہ کواطلاع دی کہ اُس خاتون کاانتقال ہوچکاہے،اگر آپ لوگ اس کی تجہیزوتدفین کرناچاہیں تو کرسکتے ہیں۔ فوری طور پر روزنامہ نے اس خدمت کو قبول کیا،لیکن سب سے پہلے سورب کی مسلم سمرکشنا ویدیکے کومطلع کیاجس پرویدیکے کے ذمہ داروں نے آخری دفعہ بچوں سے بات کرتے ہوئے کم ازکم تجہیز وتدفین کرنے میں آگے آنے کیلئے کہاجس پر خاتون کی بیٹی نے حامی بھری،البتہ بیٹے اس کارخیر میں شریک نہ ہوسکے۔مقامی خادمین کا کہنا تھاکہ آخری وقت تک بھی خاتون نے بیٹے بیٹی اور بہو کو یادکیااور اُن کے آنے کا انتظارکیاتھا۔صبح روزنامہ آج کاانقلاب نے ہولے ہنورکے پاس موجود اگرداہلی کے اولڈ ایج ہوم سے میت لانے کیلئے قانونی کارروائی پولیس تھانےپہنچ کر مکمل کرلی،اس کے بعدمسلم سمرکشناویدیکے کے کارکنوں کی نگرانی میں میت کو سورب لے جاکر آخری رسومات اداکی۔سوال یہ ہے کہ آخراولاداتنی بے وفاکیوں ہورہی ہے؟۔
