بنگلورو:۔ویلفیر پارٹی کے آف انڈیاکے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حسین نے آج ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے بتایاکہ بلگائوی کے اسمبلی سیشن میں جاری کئے جانے والے ممکنہ تبدیل مذہب قانون ریاست کی عوام کیلئے ایک طرح سے دھوکہ ہے،اس سے اسمبلی کا وقت اور پیسہ دونوں ہی بربادکیاجارہاہے ۔ اس تعلق سے اڈوکیٹ طاہر حُسین نے مزیدکہا کہ ریاستی حکومت رشوت خوری اور کوویڈکے متاثرین ،قدرتی آفات کے متاثرین کو معاوضہ دینے کے بجائے ان مدعوں سے پیچھا چھڑانے کیلئے تبدیل مذہب کا قانون کو پیش کرتے ہوئے لوگوں کوگمراہ کررہی ہے۔ملک کے دستورمیں بھارت کی عوام کو کسی بھی سمت ووٹ کرنے یا نہ کرنے کا حق دے رکھا ہے تو تبدیل مذہب کے قانون کی ضرورت ہی نہیں تھی،یہ آئین کے برعکس ہے۔جھوٹے الزامات لگاکر آوارہ شرپسند عناصر چرچ اور مسجدوں پرحملے اور مذہبی پیشوائوں پر حملے کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے ایک طرح سے تائید کی جارہی ہے۔پچھلے بارہ مہینوں سے ریاست کے مذہبی اقلیتوں پر 38 حملے پر ریاست میں قانونی نظم ونسق کوبحال رکھنے میں پوری طرح سے ناکام ہوئی ہے ۔ نئے قانون کو فرقہ پرست غنڈے اقلیتوں پر حملے کرنے کیلئے استعمال کرینگے، انہیں ایک طرح سے یہ لائسنس دیاجارہا ہے ۔ ترقیاتی کاموں کو چھوڑ کر نفرت کی سیاست کررہی یوپی حکومت کی طرح کرناٹک کو تباہ نہ کیاجائے۔دستورکے خلاف اشارہ کرنےوالے اس قانون کو منظورنہ کیاجائے۔اڈوکیٹ طاہرنے مزیدکہاکہ مرکزی حکومت نے نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کے باوجود بسواراج بومئی کی حکومت کسانوں پر زرعی قوانین نافذ کرنے کی تیاری کررہی ہے،حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طو ر پر کسانوں سے معافی مانگیں،ساتھ ہی ساتھ لیانڈ ریفارم ایکٹ،انسدادگائوکشی قانون کو بھی منسوخ کرتے ہوئے ریاست کی عوام کو جینے کا حق دیاجائے۔
