از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ملک میں اس وقت مسلمانوں کے حالات کاجائزہ لیاجائے تو یہ بات قابل تشویش ہے کہ مسلمانوں میں اب بھی تعلیم حاصل کرنے کا رحجان بہت کم ہے۔مسلمانوں میں اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ انہیں مناسب وقت پر نہ رہنمائی ملتی ہے،نہ ہی ایسے وسائل جس کے ذریعے سے مسلمان آسانی کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔مسلم محلوں کاجائزہ لیں تو وہاں پر آپ کو بڑے بڑے بنگلے،شادی محل اورعالیشان مساجد ہی دکھائی دینگے،جبکہ آبادی کے تناسب کے برابر وہاں اچھے اسکول،کالج اور پروفیشنل کورسس سینٹربالکل بھی دکھائی نہیں دینگے۔جو بچےاچھی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں یا تو وہ سرکاری اداروں پرمنحصرہوتے ہیں یاپھر پرائیوئٹ سینٹرس میں داخلہ لیکر اپنی زندگیاں گذارنے کی کوشش کرتے ہیں۔غورطلب بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں سرکاری اور غیر مسلم پرائیوئٹ ایجوکیشن سینٹرس میں تعصب کی وباء تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے،جس کاسیدھا اثر مسلمانوں پرپڑرہاہے۔مگر اب بھی مسلمان اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں اور مسلم نسلوں کی تعلیم کیلئےاچھے تعلیمی اداروں کی تشکیل دینے کے بجائے صرف اِدھر اٗدھر کی باتیں،جذباتی تقرریں،جوشیلے نعرے بلند کرتے ہوئے قومِ مسلم کی بقاء کا دعویٰ کررہے ہیں۔کئی تنظیمیں تو ایسی ہیں جو مستقبل کے تعلق سے سوچنے کے بجائے ماضی کی باتوں کو لیکر مسلسل مسلمانوں کو جذباتی بنانے میں لگی ہوئی ہیں۔35-30 ہزارکی آبادی والے مسلم علاقوں میں دو تین پرائمری اسکول اور نصف درجن کے قریب ہائی اسکول موجودہیں،بعدکی پڑھائی کیلئے مسلم طلباء کو دوسرے تعلیمی اداروں کا رخ کرنا پڑرہاہے،حالانکہ تمام تعلیمی اداروں میں ایک جیسا نصاب ہے،مگر غیروں کی دلجوئی کرنا اور غیروں کے یہاں تعلیم حاصل کرنا اس قدر لوگوں میں خیال پیداکرچکاہے کہ غیروں کے یہاں تعلیم حاصل کرنے سے کامیابی حاصل کرنا آسان ہوجاتاہے۔مگر انہیں اس بات کا ذرا برابربھی احساس نہیں ہورہاہے کہ غیروں کے تعلیمی اداروں میں جو طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں اُن میں سے بیشتر ملحد ہورہے ہیں یاپھر اخلاقیات سے دورہوتےجارہے ہیں۔آج مسلمانوں کو اپنے یہاں تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے،جس طرح سے سرسیداحمدخان،مولانا ابولکلام آزادنے مسلمانوں میں تعلیم کوعام کرنے کابیڑااٹھایاتھااور سرسیداحمد خان نے بھیک مانگ کر لوگوں کے جوتے چپل کھاکر علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی تھی،اسی طرز پر آج مسلمانوں کو تعلیمی ادارے بنانے کی ضرورت ہے۔یقیناً آج مسلمانوں کو جوتے چپل کھانے کی نوبت نہیں ہے او رنہ ہی بھیک مانگنے کی،کیونکہ تعلیمی ادارے بھلےہی خدمت کے نام پر قائم کئے گئے ہیں لیکن اس میں بھی تجارت ہورہی ہے۔اس شعبے کو بھی مسلمان تجارتی نقطہ نظر سے بڑھاوادے سکتے ہیں،ایک تیر سے دونشانے لگاکر مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی بدحالی کو دورکیاجاسکتاہے،اس کیلئے صرف چند احباب سرجوڑکربیٹھیں اور پروفیشنل اڈوائزرس کی تجویزلیکر ایسے گروپ آف ایجوکیشنل انسٹیٹیویشن بنائیں جس سے مسلمانوں کی تعلیمی کمزوری کو دورکیاجاسکے۔یہاں ایک بات افسوسناک یہ بھی ہے کہ مسلمان جب تک جوتے نہیں کھاتے اُس وقت تک عقل نہیں پاتے۔کئی موقعوں پر مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں تب جاکر مسلمانوں نے کہیں اپنے آپ کو کسی مقام کو پر کھڑے کرنے کی کوشش کی ہے۔آج پھر ایک دور آچکاہے کہ مسلمانوں کو غیر اپنے تعلیمی اداروں میں استحصال کرتے ہوئے ان کے وجودکو پسپا کررہے ہیں اور کئی علاقوں میں تو باقاعدہ مسلم طلباء پر زیادتیاں ہورہی ہیں۔ایسے میں مسلمانوں کو فوری طورپر تعلیمی اداروں کے قیام کے تعلق سے پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے۔وہیں دوسری طرف مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں،جہاں پر ان کے مذہب اور ثقافت پر آنچ آنے نہ دیاجائے۔ظاہرسی بات ہے کہ ایسے ادارے مسلمانوں کے ہی ہونگے۔
