بنگلورو:۔بزمِ فانوسِ اردو کے زیرِ اہتمام طرحی مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا۔ مشاعرے کی صدارت قاسم سہیل قریشی نے فرمائی اور ڈاکٹر محمد حسین ، بنگلور مہمانِ خصوصی شامل رہے۔ قاضی محمد حسیب کی تلاوتِ آیاتِ ربانی سے مشاعرہ کا آغاز ہوا اور نعتِ پاک کا نذرانہ عبدالسردار وہاب دانش نے پیش کیا۔ سید عرفان اللہ ، سکریٹری ، بزمِ فانوسِ اردو نے استقبالیہ کلمات پیش کئے اور ساتھ ہی ’’کرناٹک اردو اکادمی کے صدور ڈاکٹر فوزیہ چودھری تک‘‘ مقالہ کے تحت ڈاکٹریٹ تفیظ ہونے پر مبارکباد پیش کی اور تمام شعراء کے ذریعہ آپ کا اعزاز فرمایا۔ڈاکٹر محمد حسین نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے تمام اہلِ ادب بلخصوص سید عرفان اللہ اور ان کے گائیڈ پروفیسر یس مسعود سراج کا شکریہ ادا کیا اور مقالہ کے تعلق سے در پیش آئی پریشانیوں کا بھی تذکرہ کیا۔آپ نے مزید کہا کہ اکادمی کی تشکیل کے تعلق سے روزانہ کوئی نہ کوئی خبر آ رہی ہے۔ لیکن ہم اردو ادب والوں کو چائیے کہ گلہ کرنے کے بجائے اکادمی کی خیر خبر لیتے رہیں۔ اکادمی سے اذکار اور خبرنامہ شائع نہیں ہو رہے ہیں اس کے تعلق سے ہمیں اکادمی کے رجسٹرار یا عملے سے بات کرنی چائیے اور ہمیں ان تمام پر زور دینا چائیے جو اکادمی کے تعلق سے کچھ کر سکتے ہیں۔ اس مشاعرے میں حسبِ اعلان انتخابِ طرحی مصرعہ اسد اعجاز کی ’’فن اور شخصیت‘‘ پر اجمالی خاکہ سید عرفان اللہ قادری نے پیش کیا اور اعلان کیا اب ہر ماہ اس سلسلہ کوجاری رکھا جائیگا۔ منیر احمد جامی ، انہر سعودی ، انور عزیز انور، عزیز داغ ، ارسل بنارسی، غفران امجد، عمران اسلم، ریاض احمد خمار، اسجد بنارسی، رحمت بنگلوری ، شیخ حبیب، ندیم فاروقی، مختار احمد، ابرار احمد ابرار،عبدالوہاب سردار دانش، سید نجم الدین نجم ، ثناء ساگر اور منصور علی خان نے اپنے طرحی کلام سے تمام کو محظوظ فرمایا۔ چترا درگہ سے ازل صدیقی نے اپنا کلام ارسال کیا تھا جسے سید عرفان اللہ نے پیش کیا۔ سہیل قریشی کی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے وہ معذرت کے ساتھ بہت جلدی چلے گئے ۔ آپ کے بعد منیر احمد جامی نے صدارت کا فریضہ بھی خوب انجام دیا ۔ سید عرفان اللہ، سکریٹری، بزمِ فانوسِ اردو نے ہدیہ تشکر ادا کرتے ہوئے تمام ادباء، شعراء اور سامعین سے کہا کہ بزم کی نشست ہر ماہ کی پہلی اتوار کوبعد نمازِ مغرب طے ہے اور کووڈ نائٹ کرفیوکے تحت ہمیں احتیاط بھی کرنا ہے اس کا خیال رکھیں اور بروقت آکر ہماری چھوٹی کوشش کو کامیاب کرتے رہیں۔ اور مزید اعلان کیا کہ اس مرتبہ کا طرحی مصرعہ سلام نجمی کے کلام سے لیا گیا ہے جو یوں ہے ’’جہاں دل کو یقیں آیا وہیں سجدے میں سر دیکھا‘‘ ’’سر، در، رہبر، خبر …..‘‘ قافیہ اور ردیف ’’دیکھا‘‘ ہے۔ اور اس کے بعد نشست کی برخاستگی کا اعلان کیا۔
