میسورو:۔اترپردیش میں جہاں عام لوگ محفوظ نہیں ہیں،وہیں کرناٹک میں طلباء وطالبات بھی محفوظ نہیں دکھائی دے رہے ہیں ۔ اُڈپی ،چکمگلورو اور منگلورومیں طالبات کو حجاب اور برقعہ پہننے سےروکے جانے کی خبریں ابھی میڈیامیں زیر بحث ہیں،ایسے میں کُشال نگر میں پالی ٹیکنک کے طالب العلم کو اے بی وی پی کے غنڈوں نے پیٹ کر زخمی کردیا ہے ۔ میسوروضلع کے پریاپٹن سے تعلق رکھنے والے توصیف حملے کاشکار ہونے والانوجوان ہے۔بتایاجارہاہے کہ پچھلے دنوں توصیف کو اےبی وی پی کے کارکنان حراساں کررہے تھے،جس سے پریشان ہوکر توصیف نےایمرجنسی نمبر 112 کو اطلاع دی تھی۔اطلاع پاکر پولیس نے یہاں کے ملزم طلباء سے معذرت نامہ تحریر کروایاتھااور انہیں انتباہ کرکے چھوڑ دیا تھا ۔ اسی بات سے ناراض ہوکر اےبی وی پی کے کارکنوں نےتوصیف پر حملہ کردیا،جس کے نتیجے میں اسے چوٹیں آئی ہیں ۔ خبر ہے کہ پولیس نے اس تعلق سے چھ طلباء پر معاملہ درج کرلیاہے ۔ لیکن افسوسناک خبریہ بھی ہے کہ پولیس کے پاس توصیف کے خلاف بھی کائونٹر کمپلینٹ درج کروائی گئی ہے ۔ سوال یہ اٹھ رہاہے کہ آخرمظلوم پر بھی کیونکر الزامات عائدکئے جارہے ہیں؟
