وکلاء کو سینئرکادرجہ دینے سے متعلقہ درخواستوں کی سماعت پر غور کریں گے: سپریم کورٹ

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:(انقلاب نیوزبیورو):۔ سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ وہ وکیلوں کو سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ دینے کیلئے کچھ ہائی کورٹس کی جانب سے ایک قانون کی شکل میں’من مانے اور امتیازی‘ خفیہ رائے دہی کے استعمال سے متعلق درخواستوں کی لسٹنگ پرغور کرے گا۔ عدالت نے کہا کہ ایک یا دو ہفتے میں کچھ تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔چیف جسٹس این وی رمان، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس انیرودھا بوس پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ اندرا جے سنگھ کی بات پرغورکیا۔ جے سنگھ کی پی آئی ایل پر ہی سپریم کورٹ نے 2017 میں وکلاء کو سینئرکادرجہ دینے سے متعلق رہنما خطوط جاری کئے تھے۔جے سنگھ نے اپنی تازہ درخواست کی فوری لسٹنگ کی مانگ کی اور الزام لگایا کہ کچھ ہائی کورٹ وکلاء کو سینئر کادرجہ دینے کیلئے ایک اصول کے طور پر خفیہ ووٹنگ کے عمل کو استعمال کر رہی ہے جو کہ’من مانا اور جانبدارانہ‘ ہے اور اسے اسی طرح قرار بھی دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وکلاء کی حیثیت کا تعین نامزد کمیٹی کی طرف سے دئے گئے نمبروں کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے اور ووٹنگ کا سہارا اسی وقت لیا جانا چاہیے جب کوئی دوسرا راستہ نہ ہو۔ جے سنگھ نے کہا کہ کچھ ہائی کورٹس استثناء کے طور پر نہیں بلکہ طریقہ کار کے اصول کے طور پر ووٹ دیتے ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ بہت سی عدالتوں میں سینئر کادرجہ دینے کے حوالے سے کچھ مسائل ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے بھی سینئر سٹیٹس کی درخواست کی ہے، میں اس پر غور کرنا چاہتا ہوں۔ بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ سولی سوراب جی کی موت کا ذکرکیا۔ وہ عدالت کی کمیٹی کے ممبران میں سے تھے جو وکلاء کو سینئر کادرجہ دینے کی درخواستوں پر ابتدائی فیصلے لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب نئی تقرری کرنی پڑے گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں اس پر غور کروں گا، براہ کرم کچھ وقت دیں۔