ہندی اورسنسکرت کو کرناٹک میں مسلط کر رہی ہےمرکزی حکومت :اپوزیشن کاالزام

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔زبان کو لے کر ملک میں ایک بار پھر تنازعہ شروع ہو گیا ہے، معاملہ کرناٹک سے سامنے آیا ہے۔ یہاں سنسکرت یونیورسٹی کے قیام کے لیے بی جے پی حکومت نے 324 کروڑ روپے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد ریاست کے کچھ لوگوں نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر ریاست کے لوگوں پر ہندی اور سنسکرت زبان کو مسلط کرنے کا الزام لگایا۔ریاستی حکومت نے کرناٹک سنسکرت یونیورسٹی (KSU) کے قیام کے لیے 324 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ اسے ایک مسئلہ بناتے ہوئے، سیاسی جماعتوں نے اس پر کنڑ زبان کی توہین کا الزام لگایا۔ کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں، پی ایف آئی اور دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت ریاست کے لوگوں پر ہندی اور سنسکرت زبان مسلط کرکے کنڑ زبان کی توہین کررہی ہے۔کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے اپنے فیصلے کا رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یونیورسٹی ضرور قائم کریں گے۔ سنسکرت قدیم سائنسی زبان ہے، سنسکرت تمام ہندوستانی زبانوں کی مادری زبان ہے۔ اس یونیورسٹی کے قیام کے بعد کنڑ زبان کی کسی بھی طرح توہین نہیں کی جا رہی ہے۔مخالفین کا کہنا ہے کہ ریاستی زبان کنڑ کو چھوڑ کر حکومت سنسکرت کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ نہیں بدلا گیا تو وہ ریاست گیر احتجاج بھی کریں گے۔ کرناٹک رکشناویدک سنگٹھن کے صدر ٹی اے نارائنا گوڑ انے کہا کہ ہمپی میں کنڑ یونیورسٹی کے پاس تنخواہ اور فیلوشپ دینے کے لیے بھی رقم نہیں ہے اور یہاں ایک نئی یونیورسٹی بنائی جا رہی ہے۔اپوزیشن نے الزام لگایا کہ یہ مرکزی حکومت کی ‘ایک قوم ایک زبان’ پالیسی کی سازش کے تحت ہو رہا ہے۔ آر ایس ایس کی حمایت کرنے والی تنظیمیں بھی سنسکرت کو فروغ دینے کی بات کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنڑ زبان کو ریاست کی دیگر زبانوں پر ترجیح دی جانی چاہیے۔