بنگلورو:۔کرناٹک کے اُڈپی،چکمگلورو اور منگلورو ضلع میں پچھلے کچھ دنوں سے حجاب اور برقعہ کے معاملے کو لیکر شرپسند تنظیمیں مسلسل مسلم طالبات کو حراساں کررہے ہیں،جبکہ اُڈپی سرکاری گرلس پی یو کالج کی طالبات کو پچھلے بیس دنوں سے کلاس روم سے باہر رکھاگیاہے،اس تعلق سے مسلسل میڈیامیں خبریں دکھائی جارہی ہیں او ریہ خبر اب سی این این ، آئی بی این اورالجزیرہ جیسے میڈیامیں بھی سرخی بن چکی ہے۔لیکن کرناٹک کے سات مسلم اراکین اسمبلی،تین ایم ایل سی،ایک ایم پی کے زبان سے اس معاملے میں ایک لفظ باہر نہیں نکل رہاہے،جبکہ کرناٹکا مارئناریٹی کمیشن جو اقلیتوں کو سماجی ومذہبی حقوق کیلئے تحفظ فراہم کرنے کا ادارہ ہے،اُس کی طرف سے بھی کسی طرح کاقانونی قدم اٹھایانہیں گیاہے،جبکہ مارئناریٹی کمیشن کو سوموٹو کیس درج کرنے کے اختیارات ہیں یا پھر متعلقہ محکموں پر دبائو ڈالتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرواسکتاہے،لیکن کرناٹکا مائناریٹی کمیشن اس وقت صرف وقف بورڈ کا واچ ڈاگ بنا بیٹھاہے اور ریاست کے دیگر اقلیتوں کے مسائل کونظراندازکیاجارہاہے۔ضمیر احمد،کنیز فاطمہ،تنویرسیٹھ،محمد حارث، رحیم خان،یوٹی قادر،رضوان ارشد جیسے اراکین اسمبلی اورسلیم احمد،سی ایم ابراہیم،نصیراحمد،جیسے ایم ایل سی اور ناصر حُسین جیسے رکن پارلیمان کے علاوہ اور بھی درجنوں سابق وحالی اراکین اسمبلی موجودہیں،مگر مسلمانوں کے برقعے کے تعلق سے کھلے وار کے باوجود مسلم تنظیمیں ان کے تحفظ کیلئے آوازنہیں اٹھارہے ہیں۔حجاب جیسے پیچیدہ مسئلہ پر ہی مسلمانوں کے یہ سیاسی قائدین خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں تو عام لوگوں کاکیاہوگایہ سوچنے کی بات سامنے آئی ہے۔ایک طرف مسلم قائدین کی خاموشی برقرارہے تو دوسری جانب کچھ تنظیمیں اس مسئلے کوحل ہونے کاموقع ہی نہیں دینا چاہ رہے ہیں۔بعض تنظیمیں احتجاج کرنے والی لڑکیوں کو دوسری تنظیموں کے ساتھ تال میل قائم کرتے ہوئے عدالتی اقدامات اٹھانے کیلئے موقع ہی نہیں دے رہی ہیں،جبکہ قانون دانوں کا مانناہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھایاجائےا ور عدالت سے فوری طور پر رجوع کیاجائے تو اس میں کامیابی کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔
