کرناٹک پردیش کانگریس شعبہ اقلیت کے چیرمن کے عبدالجبار کا حجاب پر تبصرہ

اسٹیٹ نیوز
داونگیرے:۔کرناٹک پردیش کانگریس شعبہ اقلیت کے چیرمن کے عبدالجبار نے اُڈپی کی ایک کالج میں طالبات کے حجاب سے متعلق کالج کےپرنسپل کے ذریعہ زیادتی پر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُڈپی کی سرکاری کالج  کے پرنسپل نے مسلم لڑکیوں کو حجاب پہنے سے منع کیا ہے ،دراصل یہ کالج مکمل لڑکیوں کی ہےجہاں پر اس معاملہ کو مصلحت کے ذریعہ بھی حل کیا جا سکتا تھا مگر مسلم قوم میں بھی کچھ جلد باز شرارت پسند افراد کی وجہ سے یہ معاملہ طول پکڑ تاجارہاہے،جبکہ اس معاملہ کو لے بات چیت ہوچکی تھی اسی مہینہ کی چار تاریخ کو میں خود گیا ہوا تھا۔ 6 تاریخ کو ایک میٹنگ منعقد کرکے اس معاملہ پر تفصیلی معلومات حاصل کی گئی اور کالج سے رابطہ کے بعد پتہ چلا ہے کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں یونیفارم کالج کا مسلہ نہیں ہے دسویں جماعت کے بعد طلباء جو بھی ڈریس پہنا چاہیں اُنہیں آزادی ہےحجاب ڈالنا یا نا ڈالنا  طلباء کی اپنی پسند پر منحصرہےکوئی ضروری نہیں ہے معاملہ سرکاری کالج ہونے کے باوجود پرنسپل نے اپنی ذمہ داری میں جو کوتاہی برتی اُسی کا نتیجہ ہے پرنسپل کی جانب سے  اگر تھوڑا احتیاط سے کا م لیا جاتا تو معاملہ آسان تھا کہ یہ کالیج پوری طرح لڑکیوں کی ہی ہے آپ حجاب پہنتی ہیں پہن لیں مگر کالج کے اندر آنے کے بعد ساری کی ساری لڑکیا ہی ہیں ، جہاں پر حجاب ڈالنا یا نا ڈالنا آپ پر منحصر ہے کہنے سے بات نا بگڑتی ،پرنسپل کی اپنی ذمہ داری کے تئیں عدم دلچسپی نے معاملہ کو عالمی سطح پر شہرت بخشی جبکہ معاملہ پوری طرح اس کے برعکس ہے ،کانگریس شعبہ اقلیت کی جانب سے ایک نمائندہ وفد اُڈپی کا دورہ کرے گا اورمقامی طور پر بھی ذمہ داروں کو اس ضمن میں ذمہ داری دے دی گئی ہے کہ حالات پر نظر رکھتے ہوئے مسلہ کے حل کی مکمل جدو جہد میں کرناٹک پردیش کانگریس شعبہ اقلیت مصروف َ پیکار ہے، کسی بھی معاملہ سے متعلق کانگریس شعبہ اقلیت کسی قسم کی لاپرواہی نہیں برتے گی یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے قوم کے ملت کے ملک اور ملک میں بسنے والے والے تمام طبقات کے مفادات کا تحفط ہماری اولیں ذمہ داری ہے ،عہدہ اور قیادت تاج نہیں جو سجائے رکھیں یہ تو ایک ذمہ داری ہے ۔اس موقع پر سابق ضلع وقف مشاورتی کمیٹی چیرمن سراج احمد وغیرہ شریک رہے۔