مسلم لڑکیاں کامیابی کے پرچم لہرارہےہیں; ایس ایس ایل سی فیل لڑکے ان کی تنقید کررہے ہیں

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔ایک طرف مسلم لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتےہوئے کامیابی کے پرچم لہرارہی ہیں،کوئی پولیس سب انسپکٹر بن رہی ہےتو کوئی کے اے ایس افسربن کر مسلمانوں کا نام روشن کررہی ہیں تو کوئی اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے گولڈ مڈلسٹ اور رینک طالبہ بن رہی ہے۔ایسی طالبات ومسلم لڑکیوں کی تنقید سوشیل میڈیا پر وہ نوجوان کررہے ہیں جو ایس ایس ایل سی فیل ہوئے ہیں یا پھر کبھی کالج کا رُخ بھی نہیں کئے ہیں۔سوشیل میڈیا پر انہوں نے ان مسلم لڑکیوں کو تجویز دیتے ہوئے برقعہ،نقاب،حجاب اور پردے کے تعلق سے خطبے دے رہے ہیں اور اس کے فائدے ونقصانات بھی بیان کررہے ہیں،اس کے علاوہ عورت کا مقام کہاں ہے،جنت میں کون عورتیں جانے والی ہیں اور کونسی عورتیں دوزخ کو جانے والی ہیں اس کا فیصلہ بھی دسویں فیل ،جمعہ کو ایک مرتبہ مسجدجانے والے اور ہپ ہاپ کٹنگ کے نوجوان سوشیل میڈیا پر تبصرے کررہے ہیں۔جو لڑکیاں تعلیم حاصل کرتے ہوئے مردوں کا مقام لے رہے ہیں،اُن لڑکیوں کامقابلہ کرنے کی سکت تو ان میں نہیں ہے،البتہ دین کے نام پراپنا دبدبہ سوشیل میڈیا پر قائم کرنے کی کوششوں میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔امسال کرناٹک میں 405 پولیس سب انسپکٹروں کی بھرتی ہوئی ہیں،جن میں تین مسلم لڑکیاں پی ایس آئی کا امتحان پاس کرچکے ہیں جبکہ دو مسلم لڑکے اس امتحان میں کامیاب ہونے والوں میں سے ہیں۔اندازہ لگائیے کہ کس طرح سے مسلم لڑکے اپنی صلاحیتوں کا استعمال کررہے ہیں اور کیسے مسلم لڑکیاں اپنی صلاحیتوں کا اچھی طرح سے استعمال کرتے ہوئے کامیاب ہوتی جارہی ہیں۔دریں اثناء ان نقادوں میں صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ کئی تعلیم یافتہ بزرگ بھی ہیں جن کا مانناہے کہ مسلم لڑکیاں پولیس محکمے میں محفوظ نہیں رہے گیں،جبکہ حالات بتاتے ہیں کہ جن کے پاس اخلاق نہیں وہ صرف پولیس محکمے میں محفوظ نہیں رہتی بلکہ ٹیچرس ڈیپارٹمنٹ،ریلوے ڈیپارٹمنٹ،ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ پبلک سرویس کمیشن کے دوسرے شعبوں میں بھی محفوظ رہنا مشکل ہے۔