ودھان پریشد میں حزب مخالف لیڈر کے طورپر بی کے ہری پرساد نے سنبھالاچارج

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کانگریس کے سنئیر لیڈر بی کے ہری پرساد نے ودھان پریشد میں حزب مخالف لیڈرکا حلف لیتے ہوئے ودھان سودھا کے دفترمیں انہوں نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا۔کے پی سی سی ورکنگ صدر سلیم احمد نے بی کے ہری پرساد کو حکومتی اعلامیہ کی نقل سونپی۔ دستور کو ہاتھ جوڑکر ہری پرساد نے حزب مخالف کرسی پر بیٹھتےہوئے اپنی ذمہ داری سنبھالی۔ بی کے ہری پرساد راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ اس کے علاوہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری بھی ہیں ۔ ایس آر پاٹل کی وداعی کے بعد بی کےہری پرساد نے اپنا عہدہ سنبھالا۔کہا جارہا ہے کہ اگلے سال ہونے والے انتخابات کو نظر میں رکھ کر کانگریس نے بی  کے ہری پرساد کو حزب مخالف لیڈر نامزد کیا تھا تاکہ ان  کے ذریعےاِڈیگا ، نامدھاری اور بھلوا طبقے کے ووٹروں کو لُبھایا جاسکے، جن کے موصوف نمائندہ قائد ہے۔سننے میں آرہا تھا کہ ایس آر پاٹل کی وداعی کے بعد اس عہدے کےلئے سی ایم ابراہیم کوشش کررہے تھے، مگر اُن کی کوششیں کامیاب نہیں ہوپائیں۔ ریاستی کانگریس میں حزب مخالف لیڈر سدرامیا اور کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار کے درمیان مقابلہ آرائی کے چلتے ، دونوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اور کسی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے نظریاتی سطح پر مضبوط ومستحکم لیڈر بی کے ہری پرساد کو اس اہم عہدہ پر بٹھایا گیا ہے۔بی کے ہری پرساد کانگریس کے وفادار سپاہی ہیں۔ وہ مکمل طورپر 100فی صد کانگریس کے نظریاتی لیڈر ہیں۔ آر ایس ایس اور بی جے پی نظریات کے سخت مخالف مانے جاتے ہیں۔ اسی نظریاتی استحکام نے انہیں اس اہم عہدہ پر پہنچایاہے۔ اس کے علاوہ کاگوڈ تمپاسے لےکر کئی ایک اِڈیگا لیڈران فی الوقت سرگرم نہیں ہیں۔ بی کےہری پرساد اسی طبقے کی نمائندگی کرتےہیں۔ کہا جارہا ہے کہ کوروبا طبقے کے بعد سب سے بڑے طبقے اِڈیگا کو اپنی حمایت میں لینے کےلئے کانگریس نے یہ قدم اٹھاتے ہوئے ہری پرساد کو حزب مخالف لیڈرکا عہدہ سونپا ہے۔