نشہ کے پاک معاشرہ۔

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
صحافت کے میدان میں ہر دن کسی نہ کسی عوامی مسئلے کو قریب سے دیکھتے ہیں اور ان میں کئی ایسے مسائل ہیں جنہیں حل کرنا وقت کی اشدضرورت ہے۔حالانکہ بطور صحافی یا صحافت کے شعبےمیں ہر کام کو خود صحافی عملی طو رپر انجام نہیں دے سکتے،لیکن جب درد حد سےتجاویزکرجاتاہے یا مسئلہ تھمنے کا نام نہیں لیتاہے تو ایسی صورت میں خود صحافیوں یا شعبہ صحافت کو آگے آکر کام کرنا پڑتاہے۔اسی سلسلے میں پچھلے کچھ عرصے سے روزنامہ آج کاانقلاب مسلسل اس بات کی جدوجہدمیں ہے کہ معاشرے کو نشےسے پاک کیاجائے۔نشے کی چیزیں مختلف طرح کی ہوتی ہیں اور اس کے استعمال کرنے و خریدوفروخت کے طریقے بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔لیکن ہمارا مقصدیہ ہے کہ ہماری جو نسلیں ہیں اُن نسلوں کو نشے سے دوررکھا جائے اور ان بچوں کے والدین وسرپرستوں کو اس بات سے آگاہ کیاجائے کہ وہ اس نشے سے دور رہیں۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کتنے ہی گھر گانجہ ،افیم،گٹکا،بیڑی ،سگریٹ اور شراب نشے میں تباہ و برباد ہوتے جارہے ہیں اور ہونے والے بھی ہیں۔عام طور پر یہ سمجھا جاتاہے کہ نشے کوروکنے کا کام پولیس یا سرکاری ایجنسیوں کا ہے اور اس سلسلے میں نصیحت کرنے کی ذمہ داری علماء کی ہے۔لیکن علماء وپولیس کےدرمیان اہم رول اداکرنے والے ہم اور آپ جیسے ہی لوگ ہیں،جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نسلوں کومنشیات یعنی ڈرگس سے دور رکھیں۔ہر دن ایسے معاملات کو ہم بہت ہی قریب سے دیکھتے ہیں جن میں نشے کی وجہ سے نوجوان جوڑے طلاق وخلع کی جانب نکل چکے ہیں،نوجوان بچے نامردی کاشکارہورہے ہیں،نوجوان بچے بے روزگارہوکر اپنی زندگیاں تباہ کررہے ہیں اور کئی بچے جرم کی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں جس کا نتیجہ سوائے تباہی وموت کے کچھ نہیں ہے۔ہاں ہم یہ مانتے ہیں کہ ہر ماں باپ کو اپنے بچے بہت ہی اچھے ونیک صالح دکھائی دیتے ہیں،لیکن ان کی نیکیاں و اچھائیاں صرف اُنہیں کومعلوم ہوتی ہیں جن کو باہر لوگ دیکھتے ہیں۔اس وقت ہر دس میں سے ایک بچہ منشیات کے استعمال کاشکارہوتاجارہاہے،اس لئے ہماری او رآپ کی ذمہ داری ہے کہ ان بچوں کوتباہ ہونے سےبچائیں۔اسی مقصد کو لیکر روزنامہ آج کاانقلاب نےنشے سے پاک معاشرے کے عنوان سے مہم چلائی جارہی ہے،جس میں مختلف طریقوں سے بیداری لانے کیلئے کام کیاجائیگا۔اس کیلئے آپ تمام کا تعائون ضروری ہے،جس طرح سے کوروناکے خلاف سب مل کر لڑرہے ہیں،اسی طرح سے منشیات یعنی ڈرگس بھی ایک وباء سے زیادہ خطرناک وباء ہے،اس وباء کو ختم نہ کیاجائے تو اور کتنے لوگ تباہ وبرباد ہونگے،اس کااندازہ نہیں ہے۔اس کام کو ایک تحریک کے طو رپر چلانے کی ضرورت ہے،جہاں جہاں سے بھی ممکن ہوسکے،وہاں پر نوجوانوں کی اصلاح کی ضرورت ہے،اسے کسی مخصوص شخص یا فرد پر عائدنہیں کیاجاسکتا۔جس طرح سے اسلام نے شراب نوشی اور زنا کو حرام قراردیاہے ،اسی طرح سے دیگر نشے کی چیزیں بھی حرام ہیں،جب یہ نشہ حرام ہے تو کیونکر اس پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔مسلمانوں نے اب تک اتحادِ ملت،گنگا جمنا تہذیب،آسان نکاح،مختلف عنوانات کے کانفرنس منعقد کررکھے ہیں،لیکن انہیں باربار ہزار بار سننے والے وہی لوگ ہیں جو اللہ ورسول ،قرآن وحدیث کو باریکی سے جانتے ہیں یا پھر خوفِ خدا اپنے سامنے رکھتے ہیں،جبکہ ہمارے معاشرے میں اب بھی ایک ایسا طبقہ ہے جو نہ تو مسجدوں سے جڑا ہواہے،نہ ہی خانقاہوں سے ان کا کوئی تعلق ہے،نہ یہ جماعتوں کے حصہ دارہیں،نہ ہی حلقوں میں بیٹھنے والے نوجوان ہیں،ان کے سامنے کالااکشر بھینس برابرہے،یہ لوگ حق نا حق جانتے نہیں ہیں،ایسے لوگوں کے درمیان زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے،مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن کچھ بھی نہیں ہے۔ایک ایمان والے کو کام کرنے کیلئے نمونہ اس کے انبیاء اور رسول ہیں ،ان کے نقشہ وقدم پر چلنا ہمارا کام ہے،کوشش کرنا ہمارا کام ہے،نتیجہ دینا اُس رب العالمین کی مرضی ہے۔یہی ایمان والوں کا ایمان ہے۔