مساجد دینی ملی سیاسی سماجی فلاحی تربیت کے مراکز ہیں امت مسلمہ پر ہو رہے مظالم کے خلاف آواز اٹھانا علماء کرام کی ذمہ داری ہے
(از :– سید عرفان رضوی حسینی شیموگہ کرناٹکا)

کرناٹکا کے مختلف اضلاع اور تعلقہ میں کالج میں پڑھنے والے مسلم طالبات پر حجاب کے نام پر ستایا جارہا ہے گودی میڈیا کے ذریعے بھی انہیں حراساں کرنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے قیادت کے منصب پر فائز علماء و دانشوران اس معاملے میں اتنا خوف زدہ ہیں مسلمانوں کے حق و انصاف کیلئے آواز اٹھانا بھی گورا نہیں سمجھ رہے ہیں ظلم کبھی افراد واشخاص کی طرف سے پیش آتا ہے اور کبھی حکومت کی طرف سے، اگر حکومت ظالمانہ رویہ اختیار کرے تو اس کے خلاف آواز اُٹھانا اور زیادہ اہم ہے؛ کیوں کہ حکومتیں ہوتی ہی ہیں امن وامان اور عدل وانصاف قائم کرنے کے لئے، اگر وہی آمادۂ ظلم ہو جائے تو یہ ایسا ہی ہو گا جیسے چوکیدار خود چوری کرنے لگے، یہ ظلم بھی ہے اور اپنے فریضہ سے کوتاہی بھی، بہ حیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں پر یا ملک کے کسی بھی گروہ پر ظلم ہو تو مسلمان قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اور امن وامان کا خیال رکھتے ہوئے ان کا مقابلہ کریں اور اس سے راہ فرار اختیار نہ کریں؛ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہاد کی سب سے افضل شکل یہ ہے کہ ظالم حکمراں کے سامنے انصاف اور سچائی کی بات پیش کی جائے ’’ أفضل الجھاد کلمۃ حق عند سلطان جائر‘‘ ریاست کے مختلف کالجوں میں باحجاب اسکولوں میں آنے سے زبردستی روکا جا رہا ہے جب کے وہ تمام کالج گورنمنٹ ہیں اس پر سب کا حق برابر ہے یہ کسی کی جاگیر نہیں ہے سلام ان طالبات کو جو اپنے حق کیلئے تقریبا ایک ماہ سے بلا خوف وخطر اپنی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوئ اور اس معاملہ کو لیکر کورٹ تک پہنچی ہے ہمیں شام آنی چاہیے جن کاموں کو مرد انجام دینے سے قاصر رہے ہماری بہنوں نے اسے اپنے عزم سے پورا کیا علماء کرام کی یہ دینی ذمہ داری نہیں تھی جمعہ کے خطبوں میں اسلام میں حجاب کی ضرورت پر خصوصی پیغام نشر فرماتے امت مسلمہ کو ان معاملات میں اتحاد کا درس دیتے لیکن آفسوس صد آفسوس ایک ماہ سے الاماشاء اللہ اکثریت کا حال یہی ہے حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنا گورا نہیں سمجھا جب سب سے زیادہ دینی حق ان کا ہے قوم مسلم کو ان حالات کے تعلق سے صحیح رہنمائی فرمائیں اور ان حالات سے نمٹنے کیلئے انہیں ذہنی طور پر تیار کریں جو اہل علم موجود حالات سے باخبر نہیں وہ اس حدیث کے مترادف ہیں *من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل* جو شخص اپنے دَور کے لوگوں کے احوال سے آگاہ نہیں وہ جاہل ہے
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مفاد پرست عناصر اورتشدد پسند افراد کے ہاتھوں سیاست گندی اور گدلی ہوچکی ہے، اس کوپاک وصاف کرنے کاواحد راستہ یہی ہے کہ ملت کاباوقار طبقہ علماء کرام، پروفیسرز اور لکچرارز،دانشوران اور خوفِ خدا رکھنے والے حضرات سیاست کے عملی میدان میں اترجائیں اوراپنی صدق بیانی،خدا ترسی اورسچی خدمت کے ذریعہ سیاست کی موجودہ گندگی کودھونے کی سعی کریں اور متحد ہوکر خود غرض اور شدت پسند عناصر سے سیاسی قوت چھین لیں، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ اگرلوگ ظالم کے ظلم کودیکھ کر اس کاہاتھ نہ پکڑیں تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب پراپنا عذاب نازل فرمادیں، ظالم کو ظلم سے روکنا اور اس کے خلاف آواز اٹھانا معاشرے کے ہرفرد کے لئے لازم و ضروری ہے۔
