شیموگہ : بجرنگ دل کے کارکن کا قتل؛ حالات کشیدہ

شیموگہ : بجرنگ دل کے کارکن کا قتل؛ حالات کشیدہ
شیموگہ : شہر میں آج رات قریب 9 بجے بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا قتل ہوا ہے جس کے بعد شہر میں حالات کشیدہ ہوچکے ہیں اور پولیس الرٹ ہوچکی ہے۔ شہر کے ین ٹی روڈ پر واقع بھارت کالونی کے بالمقابل ہرشا نامی نوجوان کو نامعلوم افراد نے قتل کیا ہے ، ہندو تنظیموں نے اس قتل کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد کی ہے جبکہ پولیس نے اب تک اس کے قصورواروں کی نشاندہی نہیں کی ہے ۔ شہر میں حالات کشیدہ ہیں ،مختلف مقامات پرآگ زنی کی وارداتیں پیش آئی ہیں، سیگے ہٹی، لالبند واڈی میں 5 سواریوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے، سیگے ہٹی میں بھی یہی حال رہاہے، جبکہ آزاد نگر میں سنگھ پریوار کے نوجوان اقلیتوں کے گھروں پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن عین موقع پر پولیس فورس نے آکر حالات کو قابو میں کیا، اس دوران پولیس نے لاٹھی چارج بھی کی جسکی وجہ سے حالات مزید بگڑ گئے ۔ اقلیتوں نے الزام لگایا کہ پتھرائو دوسری جانب سے ہورہے ہیں اور قابو میں ہمیں کیا جارہاہے ۔۔ باوجود اسکے پولیس نے لاٹھیوں کا استعمال کیا ۔، پولیس کی افزود ٹکڑیوں کو حساس علاقوں میں تعینات کیا گیاہے، آئی جی پی ،یس پی اعلٰی افسران رات بھر گشت میں لگے ہوئے تھے اور حالات کو بہتر بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔

میت کے جلوس میں بڑھ سکتا ہے تشدد؟ :
جب بھی کسی ہندوتنظیم سے جڑے ہوئے کارکن کی موت واقع ہوتی ہے تو اسکے لاش کے جلوس کے دوران شہر میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہواہے، یہی بات 21 فروری کوبھی ممکن ہوسکتی ہے، رات بھر احتجاج اور پرتشدد واقعات سے شیموگہ کے اقلیتی علاقوں میں گہری تشویش دیکھی گئی ہے۔

اسکول کالجوں کو تعطیل : شیموگہ شہر میں درپیش معاملات کو دیکھتے ہوئے 21 فروی کی شام تک امتناعی احکامات جاری کئے ہیں ساتھ میں اسکولوں و کالجوں کو بھی تعطیل دی گئی ہے، البتہ جن کالجوں میں امتحان چل رہاہے اسکے لئے ابھی تک کوئی بیان ضلع انتظامیہ نے جاری نہیں کیا۔
