عبادت گاہ ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج،کئی دفعات کو غیر آئینی بتایا

سلائیڈر نیشنل نیوز

دہلی:عبادت گاہ ایکٹ1991(عبادت کے مقامات خصوصی پروویژن ایکٹ1991)کو سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن کے ذریعے چیلنج کیا گیا ہے- بدھ کو دائر کی گئی اس درخواست میں کہا گیا کہ یہ ایکٹ سکیولرزم کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے، جب کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے-سوامی جتیندرند سرسوتی نے اس درخواست میں ایکٹ کی دفعہ4,3,2کی آئینی جواز کو چیلنج کیا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ یہ سیکشن نہ صرف آرٹیکل21,15,14کی خلاف ورزی کرتے ہیں – بلکہ سیکشن29,26,25 اور سکیولرزم بھی قانون کی حکمرانی کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ آرٹیکل21,15,14آرٹیکلز آئین کی تمہید اور بنیادی شکل کا ایک اہم حصہ ہیں ۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہندوؤں، بدھسٹوں، جینوں اور سکھوں کے حق پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا ہے کیونکہ ایکٹ کی دفعہ4,3,2نے عدالت سے رجوع کرنے کا حق چھین لیا ہے اور اس طرح انصاف کا حق بند کردیاگیاہے ۔ ایکٹ کا سیکشن3عبادت گاہوں کو تبدیل کرنے سے منع کرتا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی مذہبی فرقے یا اس کے کسی بھی طبقے کی عبادت گاہ کو ایک ہی مذہبی فرقے یا کسی مختلف مذہبی فرقے یا اس کے کسی طبقے کی عبادت گاہ میں تبدیل نہیں کریگا-سیکشن4کسی بھی عبادت گاہ کے مذہبی کردار میں تبدیلی کیلئے کوئی مقدمہ دائر کرنے یا کسی دوسری قانونی کارروائی کے آغاز سے منع کرتا ہے،جو بھی مذہبی مقامات ہیں وہ ویسے ہی رہیں گے جیسے15اگست1947کو تھے- ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ ایکٹ ہندوؤں، جینوں، بدھسٹوں اور سکھوں کے عبادت گاہوں اور زیارت گاہوں کی دیکھ بھال اور انتظام کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے- یہ ایکٹ ہندوؤں، جینوں، بدھسٹوں اور سکھوں کو دیوتاؤں سے تعلق رکھنے والی مذہبی جائیدادوں (غلط طریقے سے دوسری برادریوں کے زیر کنٹرول)کی ملکیتحاصل کرنے سے محروم کرتا ہے-درخواست میں کہا گیا کہ یہ ہندوؤں، جینوں، بدھسٹوں اور سکھوں کی عبادت گاہوں اور زیارت گاہوں میں انصاف حاصل کرنے اور دیوتا کی جائیداد کو واپس لینے کے حقوق بھی چھین لیتا ہے۔